اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
مذکورہ آیت میں یہ بتلایا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے بھی ہوں گے جو جہنم سے تو نجات پاگئے؛ مگر ابھی جنت میں داخل نہیں ہوئے؛ البتہ اس کے امیدوار ہیں کہ وہ بھی جنت میں داخل ہوجائیں، ان لوگوں کو اہل اعراف کہا جاتاہے۔ اب اصل آیت کا مضمون دیکھیے، جس میں ارشاد ہے: کہ اہل اعراف اہلِ جنت کو آواز دے کر کہیں گے (سلامٌ علیکم) یہ لفظ دنیامیں بھی باہمی ملاقات کے وقت بطور تحفہ واکرام کے بولا جاتا ہے اور مسنون ہے اور بعد موت کے، قبروں کی زیارت کے وقت بھی، اور محشر اور جنت میںبھی؛ لیکن آیات اور روایات حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں السلام علیکم کہنا مسنون ہے اور اس دنیا سے گذرنے کے بعد بغیر الف لام کے سلامٌ علیکم کا لفظ مسنون ہے، زیارتِ قبور کاجو کلمہ قرآن مجید میں مذکور ہے، وہ بھی سلامٌ علیکم بما صبرتم فنعم عقبی الدارآیا ہے اور فرشتے جب اہلِ جنت کا استقبال کریں گے اس وقت بھی یہ لفظ اسی عنوان سے آیا ہے، سلامٌ علیکم طبتم فادخلوہا خالدین اور یہاں بھی اہل اعراف اہل جنت کو اسی لفظ کے ساتھ سلام کریں گے۔(معارف القرآن: ۳؍۷۶۸) ۱۵-لَہُمْ دَارُ السَّلاَمِ عِندَ رَبِّہِمْ وَہُوَ وَلِیُّہُمْ بِمَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ ۔(الانعام: ۱۲۷) یعنی جو لوگ قرآنی ہدایات قبول کرنے والے ہیں، ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے، ان کے رب کے پاس۔ اس آیت میں صراطِ مستقیم پر چلنے والوں کے لیے ثمرہ کا بیان ہے کہ ان کے واسطے دارالسلام ہے؛اسی لیے دخولِ جنت کے وقت ہی انہیں سلامتی کا پیغام سنا دیا جائے گا اور کہا جائے گاادْخُلُوہَا بِسَلاَمٍ آمِنِیْنَ ۔ (الحجر: ۴۶) مفتی شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں: اس آیت میں لفظ دار کے معنی گھر اور سلام کے معنی تمام آفتوں، مصیبتوں اور محنتوں سے سلامتی کے ہیں؛اس لیے دارالسلام اس گھر کو کہاجاتا ہے، جس میں کسی تکلیف ومشقت اور رنج وغم اور آفت ومصیبت کا گذر نہ ہو اور وہ ظاہر ہے کہ جنت ہی ہوسکتی ہے۔ اور حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ نے فرمایا: کہ ’’السلام‘‘ اللہ جل شانہ کا نام ہے اور دارالسلام کے معنی ہیں اللہ کا گھر اور ظاہر ہے کہ اللہ کا گھر امن وسلامتی کی جگہ ہوتی ہے؛ اس لیے حاصل معنی پھر یہی ہوگئے کہ وہ گھر جس میں ہر طرح کا امن وسکون اور سلامتی واطمینان ہو، جنت کو دارالسلام فرما کر اس طرف اشارہ کردیا کہ جنت ہی صرف وہ جگہ ہے جہاں انسان کو ہر قسم کی تکلیف، پریشانی اور اذیت اور ہر خلافِ طبع چیز سے مکمل اور دائمی سلامتی حاصل ہوتی ہے، جو دنیا میں نہ کسی بڑے بادشاہ کو کبھی حاصل ہوئی اور نہ بڑے سے بڑے نبی ورسول کو؛ کیوں کہ دنیائے فانی کا یہ عالم ایسی مکمل اور دائمی راحت کا مقام ہی نہیں۔ … اور رب کے پاس ہونے کے یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ دارالسلام یہاں نقد نہیں ملتا؛ بلکہ جب وہ قیامت کے روز اپنے رب کے پاس جائیں گے اس وقت ملے گا، اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ دارالسلام کا وعدہ غلط نہیں ہوسکتا، رب کریم اس کا ضامن ہے وہ اس کے پاس محفوظ ہے،اور اس میں اس طرف بھی اشارہ ہے کہ اس دارالسلام کی نعمتوں اور راحتوں کو آج کوئی تصور میں بھی نہیں لا سکتا، رب ہی جانتاہے جس کے پاس خزانہ محفوظ