اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
گی، ان میں سے ’’سابقین‘‘کے لیے بہت ساری نعمتوں کا تذکرہ کیا گیا ہے، ان میں سے ایک نعمت یہ بھی ہے کہ وہ لوگ ہر طرف سلام کے ترانے سنیں گے، جو رحمت اور محبت کی نشانی ہے اور غالباً اسی وجہ سے جنت کا ایک نام ’’دارالسلام‘‘ بھی ہے۔ ۱۰- سَلاَمٌ عَلَیْْکُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ۔(الرعد: ۲۴) سورہ رعد کی آیات ۲۰ تا ۲۴ میں اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بندوں کی نو صفات کا تذکرہ ہے، اس کے بعد ان کی جزاء کا بیان ہے، اخیرمیں، دارِ آخرت میں ان کی فلاح وکامیابی کا مزید بیان یہ ہے کہ فرشتے ہر دروازے سے ان کو سلام کرتے ہوئے داخل ہوں گے اور کہیں گے: تمہارے صبر کی وجہ سے تمام تکلیفوں سے سلامتی ہے اور کیسا اچھا انجام ہے دار آخرت کا۔ ۱۱- سَلَامٌ قَوْلاً مِن رَّبٍّ رَّحِیْمٍ۔ (یس:۵۸) اور ان کو (اہل جنت) پروردگار مہربان کی طرف سے سلام فرمایا جائے گا(یعنی حق تعالیٰ فرمائیں گے السلام علیکم یا أہل الجنۃ۔ رواہ ابن ماجہ (معارف القرآن: ۷؍۴۰۰) ۱۲- تَحِیَّتُہُمْ فِیْہَا سَلاَمٌ۔(یونس: ۱۰) (پھرجب (اہل جنت) ایک دوسرے کو دیکھیں گے تو ان کا باہمی سلام یہ ہوگا السلام علیکم۔ اس آیت میں اہل جنت کا حال بتایا گیا ہے کہ تحیتہم فیہا سلٰم، تحیہ عرف میں اس کلمہ کو کہا جاتا ہے، جس کے ذریعہ کسی آنے والے یا ملنے والے شخص کا استقبال کیاجاتا ہے جیسے سلام یا’’ خوش آمدید‘‘ یا ’’أہلا وسہلا‘‘ وغیرہ، اس آیت نے بتادیا کہ اللہ جل شانہ کی طرف سے یا فرشتوں کی طرف سے اہل جنت کا تحیہ لفظ سلام سے ہوگا، یعنی یہ خوش خبری کہ تم ہر تکلیف اور ناگوار چیز سے سلامت رہو گے، یہ سلام خود حق تعالیٰ کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے جیسے سورہ یس: ۵۸ میں ہے سَلَامٌ قَوْلاً مِن رَّبٍّ رَّحِیْمٍ اور فرشتوں کی طرف سے بھی ہوسکتا ہے، جیسے دوسری جگہ ارشاد ہے: والملئکۃ یدخلون علیہم من کل باب سلم علیکم یعنی فرشتے اہل جنت کے پاس ہر دروازہ سے سلام علیکم کہتے ہوئے داخل ہوں گے اور ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں کہ کسی وقت براہ راست اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچے اور کسی وقت فرشتوں کی طرف سے اور سلام کا لفظ اگر چہ دنیا میں دعا ہے؛ لیکن جنت میں پہنچ کر تو ہرمطلب حاصل ہوگا؛ اس لیے وہاں یہ لفظ دعا کے بجائے خوشی کا کلمہ ہوگا۔روح المعانی (معارف القرآن: ۴؍۵۱۲) ۱۳-وَقَالَ لَہُمْ خَزَنَتُہَا سَلَامٌ عَلَیْْکُمْ طِبْتُمْ فَادْخُلُوہَا خَالِدِیْنَ ۔(الزمر: ۷۳) یعنی جب متقی لوگ جنت پر پہنچ جائیں گے تومحافظ فرشتے ان سے کہیں گے السلام علیکم تم پر سلامتی ہو، تم مزے میں رہو، پس جنت میں ہمیشہ رہنے کے لیے تشریف لے جایئے، یعنی ان جنتی مہمانوں کے سرپر عزت وشرافت کا یہ زریں تاج لا محدود زمانے تک کے لیے باندھ دیا جائے گا اور اہل جنت کا یہ استقبال ایک تاریخ ساز استقبال ہوگا، اس آیت میں قابل غور بات یہ ہے کہ ایسے مرحلہ پر خطبہ استقبالیہ کے قائم مقام یہ الفاظِ سلام ہی قابل ترجیح سمجھے گئے، آخر کیوں؟ یقینا اس میںکوئی خصوصی تاثیراور معنویت کا عنصر چھپا ہوا ہے؛ جس کی تفصیل ان شاء اللہ آگے آئے گی۔ ۱۴-وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ ۔ (الاعراف: ۴۶)