اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
۷- تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَہُ سَلَامٌ وَأَعَدَّ لَہُمْ أَجْراً کَرِیْماً۔ (الاحزاب: ۴۴) جس دن مومنین کاملین اپنے رب سے ملاقات کریں گے، ان کاتحیہ سلٰمٌ ہوگا اور اللہ نے ان کے واسطے بڑا اچھا اجر تیار کررکھا ہے۔ مفتی شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں: یہ اسی صلاۃ کی توضیح وتفسیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مومن بندوں پر ہوتی ہے، یعنی جس روز یہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ملیں گے تو اس کی طرف سے ان کا اعزازی خطاب، سلام سے کیا جائے گا، یعنی السلام علیکم، کہا جائے گا، اللہ تعالیٰ سے ملنے کا دن کون سا ہوگا؟ امام راغبؒ وغیرہ نے فرمایا کہ مراد اس سے روز قیامت ہے اور بعض ائمہ تفسیر نے فرمایا کہ جنت میں داخلے کا وقت مراد ہے؛ جہاں ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی سلام پہنچے گا اور سب فرشتے بھی سلام کریں گے، اور بعض حضرات مفسرین نے اللہ تعالیٰ سے ملنے کا دن موت کا دن قرار دیا ہے کہ وہ دن سارے عالم سے چھوٹ کر صرف ایک اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری کا دن ہے، جیسا کہ حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے روایت ہے کہ ملک الموت جب کسی مومن کی روح قبض کرنے کے لیے آتا ہے تو اول اس کو یہ پیام پہنچاتا ہے کہ تیرے رب نے تجھے سلام کیا ہے، اور لفظ لقاء ان تینوں حالات پر صادق ہے؛ اس لیے ان اقوال میں کوئی تضاد وتعارض نہیں ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سلام تینوں حالات میں ہوتا ہو۔(روح المعانی) اس آیت سے معلوم ہوا کہ مسلمانوں کا باہم ایک دوسرے کو تحیہ لفظ ’’السلام علیکم‘‘ہونا چاہیے، خواہ بڑے کی طرف سے چھوٹے کے لیے ہو یا چھوٹے کی طرف سے بڑے کے لیے ہو۔ (معارف القرآن: ۷؍۱۷۶) علامہ قرطبیؒ نے ایک روایت ذکر کی ہے، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن بندے کی روح قبض کرنے سے پہلے ملک الموت، اسے خود سلام کرتے ہیں۔ وقد ورد أنہ لا یقبض روح مؤمن إلا سلم علیہ، روي عن البراء بن عازبؓ قال: ’’تحیتہم یوم یلقونہ سلم‘‘ فیسلم ملک الموت علی المؤمن عند قبض روحہ، لا یقبض روحہ حتی یسلم علیہ۔ (مختصر تفسیر القرطبی: ۳؍۴۷۹) اب کل چار اقوال ہوگئے۔ ۸-وَیُلَقَّوْنَ فِیْہَا تَحِیَّۃً وَسَلَاماً۔ (الفرقان: ۷۴) یعنی جنت کی دوسری نعمتوں کے ساتھ، ان کو (مومنین) کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوگا کہ فرشتے ان کو مبارک باد دیں گے اور سلام کریں گے۔(معارف القرآن ۶؍۴۹۸) ۹-لَا یَسْمَعُونَ فِیْہَا لَغْواً وَلَا تَأْثِیْماً ۔ إِلَّا قِیْلاً سَلَاماً سَلَاماً۔ (الواقعۃ: ۲۵،۲۶) (اور) وہاں نہ بَک بَک سنیں گے اور نہ وہ کوئی اور بے ہودہ بات (سنیں گے، یعنی شراب پی کر یا ویسے بھی ایسی چیزیں نہ پائی جاویں گی جن سے عیش مُکَدَّر ہوتی ہے) بس (ہر طرف سے) سلام ہی سلام کی آواز آوے گی…(جو کہ دلیل، اکرام واعزاز کی ہے، غرض روحانی وجسمانی ہر طرح کی لذت ومسرت اعلیٰ درجہ کی ہوگی) (معارف القرآن: ۸؍۲۶۷) سورہ واقعہ کی ابتدائی آیات میں، میدانِ حشر میں حاضرین کی جو تین قسمیں ہوں