اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کے ساتھ کیسا معاملہ ہونا چاہیے۔ ۴- وَإِذَا جَاء کَ الَّذِیْنَ یُؤْمِنُونَ بِآیَاتِنَا فَقُلْ سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ۔(الانعام: ۵۴) اور یہ لوگ جب آپ کے پاس آئیں جو ہماری آیتوں پر ایمان رکھتے ہیں تو آپ ان کو سلام علیکم کہیے۔ یعنی ان پر سلام کر کے یا ان کے سلام کا جواب دے کر ان کی تکریم اور قدر افزائی کریں، فأکرمہم برد السلام علیہم۔(تفسیر ابن کثیر: ۲؍۱۳۶) مفتی شفیع عثمانیؒ لکھتے ہیں: یہاں ’’سلام علیکم‘‘ کے دو معنی ہوسکتے ہیں: ایک یہ کہ ان کو اللہ جل شانہ کا سلام پہنچا دیجیے، جن میں ان لوگوں کا انتہائی اعز از واکرام ہے، اس صورت میں ان غریب مسلمانوں کی دل شکنی کا بہترین تدارُک ہوگیا، جن کے بارے میں رؤساء قریش نے مجلس سے ہٹا دینے کی تجویز پیش کی تھی اور یہ بھی مراد ہوسکتی ہے کہ آپﷺ ان لوگوں کو سلامتی کی خوش خبری سنا دیجیے، کہ اگر ان لوگوں سے عمل میں کوتاہی یا غلطی بھی ہوئی ہے تو وہ معاف کردی جائے گی، اور یہ ہر قسم کی آفات سے سلامت رہیں گے۔(معارف القرآن: ۳؍۳۳۷) ۵- وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً۔ (النساء: ۹۳) اورتم سے سلام کہے تو اسے یہ مت کہو کہ تو ایمان والانہیں۔ حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ عنہماسے مروی ہے: مسلمانوں کادستہ بنو سلیم کے ایک آدمی سے ملا، تو اس آدمی نے مسلمانوں کو ’’السلام علیکم‘‘ کہا، مسلمانوں نے کہا: کہ اس نے جان بچانے کے لیے مسلمانوں والا سلام کیا ہے؛ چناں چہ اسے قتل کر کے اس کی بکریاں ساتھ لے آئے، تو مذکورہ آیت نازل ہوئی۔(تفسیر ابن کثیر: ۱؍۵۳۹) اس سے معلوم ہوا کہ سلام، اسلام کی نشانی ہے اور جوشخص اسلامی سلام کرے، اسے قتل کرنا جائز نہیں؛ بلکہ اسے مسلمان تصور کیا جائے گا، اس کے دل کا حال خدا جانتا ہے، ہم نہیں جانتے۔ ۶-ہَلْ أَتَاکَ حَدِیْثُ ضَیْْفِ إِبْرَاہِیْمَ الْمُکْرَمِیْنَ۔إِذْ دَخَلُوا عَلَیْْہِ فَقَالُوا سَلَاماً قَالَ سَلَامٌ قَوْمٌ مُّنکَرُونَ۔(الذاریات: ۲۴،۲۵) کیا آپ کو حضرت ابراہیم علیہ السلام کے معزز مہمانوں کی خبر (بھی) پہنچی ہے؟ وہ جب ان کے یہاں آئے تو سلام کیا، حضرت ابراہیم علیہ الصلاۃ والسلام نے جواب میں) سلام کہا اور (کہا) یہ اجنبی لوگ ہیں۔ ایک نکتہ: حضرت ابراہیم ؑ اور فرشتوں کی باہمی ملاقات میں غور کرنے کی بات یہ ہے کہ فرشتوں نے ’’سلاماً‘‘ نصب کے ساتھ کہا؛ جب کہ خلیل اللہ نے جواب میں ’’سلامٌ‘‘ رفع کے ساتھ کہا، اس کی وجہ ابن کثیرؒ یہ بتاتے ہیں کہ: رفع، نصب سے اقوی اور زیادہ بہتر ہے؛ کیوں کہ سلام کے مرفوع ہونے کی صورت میں یہ جملہ اسمیہ بنا؛ جس میں دوام واستمرار اور پائیداری ہوتی ہے اور سلاماً نصب کی صورت میں جملہ فعلیہ بنا سلمت سلاما، جو حُدوث وتجدُّد پر دلالت کرتا ہے، تو جیسا کہ قرآن کریم میں حکم ہے کہ سلام کا جواب، سلام کرنے والے کے الفاظ سے بہتر الفاظ میں ہو، حضرت خلیل اللہ نے اس کی تعمیل فرمائی، اس کی مزید تفصیل ’’رموزِ سلام‘‘ کے تحت آئے گی۔(ابن کثیر: ۴؍۲۳۶)