اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
ان کی زبان سے یہ لفظ نکلا اور مسلمانوں کو یہ تحفہ وتحیہ ملا؛ اس لیے اِس کی جامعیت وعالمگیریت کو کوئی اور دنیاوی سلام چیلنج نہیں کرسکتا، چناں چہ مولانا منظور نعمانیؒ لکھتے ہیں: آج بھی کوئی غور کرے تو واقعہ یہ ہے کہ اس سے بہتر کوئی کلمہ، محبت وتعلق اور اکرام وخیر اندیشی کے اظہار کے لیے سوچا نہیں جاسکتا، ذرا اس کی معنوی خصوصیات پر غور کیجیے یہ بہترین اور نہایت جامع دعائیہ کلمہ ہے، اس کا مطلب ہے کہ اللہ تم کو ہرطرح کی سلامتی نصیب فرمائے، یہ اپنے سے چھوٹوں کے لیے شفقت اور مرحمت اور پیار ومحبت کا کلمہ بھی ہے اور بڑوں کے لیے اس میں اکرام اور تعظیم بھی ہے، اور پھر ’’السلام علیکم‘‘ اسماء الہیہ میں سے بھی ہے، قرآن مجید میں یہ کلمہ انبیاء ورسل علیہم السلام کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے بطور اکرام اور بشارت کے استعمال فرمایا گیا ہے اور اس میں عنایت اور پیار ومحبت کا رس بھرا ہوا ہے، ارشاد ہوا ہے: سَلَامٌ عَلَی نُوحٍ فِیْ الْعَالَمِیْنَ (الصافات: ۷۹) سَلَامٌ عَلَی إِبْرَاہِیْم (الصافات: ۱۰۹) سَلَامٌ عَلَی مُوسَی وَہَارُونَ(الصافات: ۱۲۰) سَلَامٌ عَلَی إِلْ یَاسِیْن (الصافات: ۱۳۰) ۔۔۔۔۔۔۔ اور اہل ایمان کو حکم ہے کہ وہ رسول اللہﷺ کی خدمت میں بھی اسی طرح سلام عرض کریں، السلام علیک أیہا النبي الخ … اور ایک جگہ رسو ل اللہ ﷺ کو حکم دیا ہے کہ جب ہمارے وہ بندے آپ کے پاس آئیں جو ایمان لا چکے ہیں تو آپ ان سے کہیں سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ (الانعام: ۵۴) السلام علیکم! تمہارے پروردگار نے تمہارے لیے رحمت کا فیصلہ فرمایا دیا ہے… اور آخرت میں داخلۂ جنت کے وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل ایمان سے فرمایا جائے گا، ادْخُلُوہَا بِسَلاَمٍ(الحجر: ۴۶) اور سَلاَمٌ عَلَیْْکُم بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّار (الرعد: ۲۴) (معارف الحدیث: ۶؍۱۵۰-۱۴۹) مفتی شفیع صاحبؒ لکھتے ہیں: دنیا کی ہر مہذب قوم میں اس کا رواج ہے کہ جب آپس میں ملاقات کریں تو کوئی کلمہ آپس کی موانست اور اظہار محبت کے لیے کہیں؛ لیکن موازنہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ اسلامی سلام جتنا جامع ہے کوئی دوسرا ایسا جامع نہیں؛ کیوں کہ اس میں صرف اظہارِ محبت ہی نہیں؛ بلکہ ساتھ ساتھ ادائے حقِ محبت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو تمام آفات اور آلام سے سلامت رکھیں، پھر دعا بھی عرب کے طرز پر صرف زندہ رہنے کی نہیں؛ بلکہ حیات طیبہ کی دعا ہے، اسی کے ساتھ ساتھ اس کا بھی اظہار ہے کہ ہم اور تم سب اللہ تعالیٰ کے محتاج ہیں، ایک دوسرے کو نفع، کوئی بغیر اس کے اذن کے نہیں پہنچا سکتا، اس معنی کے اعتبار سے یہ کلمہ ایک عبادت بھی ہے اور اپنے بھائی مسلمان کو خدا تعالیٰ کی یاد دلانے کا ذریعہ بھی…… خلاصہ یہ کہ اسلامی تحیہ ایک عالمگیر جامعیت رکھتا ہے(۱) اس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی ہے (۲) اپنے بھائی مسلمان سے اظہار تعلق ومحبت بھی (۳) تذکیر بھی (۴) اس کے لیے بہترین دعا بھی(۵) اور اس سے یہ معاہدہ بھی کہ میرے ہاتھ اور زبان سے آپ کو کوئی تکلیف نہیں پہنچے گی جیسا کہ حدیث میں ہے: المسلم من سلم المسلمون من لسانہ ویدہ۔ یعنی مسلمان تو وہی ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے سب مسلمان محفوظ رہیں کسی کو تکلیف نہ پہنچے۔