اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کی قسم ہم بھی اسی حالت سے دو چار ہیں، اس کے بعد، میں اور حضرت ابو بکرؓ دونوں حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا یا رسو ل اللہ ! حنظلہ منافق ہوگیا، حضورﷺ نے کہا، کیا مطلب؟ تو میں نے پوری تفصیل بتادی۔ یہ سن کر رسول کریمﷺ نے فرمایا: قسم ہے اُس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، اگر تم پر ہمیشہ وہی کیفیت طاری رہے جو میری صحبت اور حالتِ ذکر میں تم پر ہوتی ہے(یعنی تم ہر وقت صاف دل اور اللہ سے ڈرنے والے رہو) تو یقینا فرشتے تم سے تمھارے بچھونوں پر او رتمھاری راہوں میں مصافحہ کریں؛ لیکن اے حنظلہ! یہ ایک ساعت ہے اور وہ ایک ساعت ہے یہ آپ نے تین مرتبہ فرمایا: (مسلم،باب فضل دوام الذکر والفکر، رقم الحدیث:۲۷۵۰) تشریح: اگر کسی شخص کی حالت اور دلی کیفیت بَشَری موانع اور نفسانی خواہشات کے باوجود ایسی ہوجائے جو حدیث میں بیان کی گئی ہے تو وہ واقعی فرشتوں کو دیکھ سکتا ہے، مصافحہ کرسکتا ہے، کاش ہماری ایسی کیفیت کسی وقت ہوتی۔ اور بقول ملا علی قاریؒ: کہ ’’فرشتے تم سے مصافحہ کریں‘‘ کا مفہوم یہ ہے کہ ایسی صورت میں فرشتے علانیہ سب کے سامنے تم سے مصافحہ کرتے نظر آئیں اور تم اُن کو مصافحہ کرتے دیکھو، علانیہ کی قید اِس لیے لگائی گئی ہے کہ ویسے تو فرشتے اہلِ ذکر سے خفیہ طور پر مصافحہ کرتے ہی ہیں کہ جس کو دنیاوی نظریں نہیں دیکھ پاتیں۔(مرقاۃالمفاتیح:۵؍۶۱) ’’بچھونوں پر اور راہوں میں‘‘سے مراد ہے حالت فراغت اور حالتِ مشغولیت، مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا صورت میں چاہے تم کسی کام میں مشغول رہتے اور چاہے فارغ ہوتے، ہر وقت اور ہمیشہ فرشتے تم سے مصافحہ کرتے رہتے۔(مظاہر حق جدید:۳؍۱۰۶)