اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
طرف سے اللہ تعالیٰ جواب دیں گے یہ ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔(اوجز المسالک: ۱۷؍۲۰۷) رد المحتار میں ہے: بوقتِ سلام، سلام کرنے والے کی نیت یہ ہونی چاہیے کہ وہ جسے سلام کررہا ہے، اُس کی عزت وآبرو اور مال واولاد کی پاسداری اور نگہبانی کرے گا، اور یاد رہے عزت وآبرو کا دائرہ بہت وسیع ہے۔(۹؍۵۹۶) تعلیماتِ اسلام کی خوبی دیکھیے، ایک چھوٹے سے جملے میں نیت کی وجہ سے کتنی برکتیں اور رحمتیں نازل ہوتی ہیں، السلام علیکم تو ہر مسلمان کہتا ہے؛ لیکن یہ نیت ہم کتنے مسلمان کرتے ہیں خود سوچ سکتے ہیں، ہمیں سلام کے وقت اِس نیت کا استحضار رکھنا چاہیے، نیت سے عادت، عبادت بن جائے گی، نیز اِس نیت وعمل میں یکسانیت کی وجہ سے چین وسکون اور محبت وخلوص نصیب ہوگا۔ مفتی تقی عثمانی صاحب لکھتے ہیں: ایک بات میں اور غور کیجیے کہ حضور اقدسﷺ نے ہمیں جو کلمہ تلقین فرمایا ہے وہ ہے ’’السلام علیکم‘‘ جو جمع کا صیغہ ہے، السلام علیک نہیں فرمایا؛ اس لیے کہ السلام علیککے معنی ہیں تجھ پر سلامتی ہو او ر السلام علیکمکے معنی ہیں تم پر سلامتی ہو اِس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ جس طرح ہم لوگ اپنی گفتگو میں ’’تو‘‘ کے بجائے ’’تم‘‘ یا ’’آپ‘‘ کے لفظ سے خطاب کرتے ہیں جس کے ذریعہ مخاطب کی تعظیم مقصود ہوتی ہے، اُسی طرح ’’السلام علیکم‘‘ میں جمع کا لفظ مخاطب کی تعظیم کے لیے لایا گیا ہے۔ لیکن بعض علماء نے اس کی وجہ یہ بیان فرمائی ہے: کہ ِاس لفظ سے ایک تو مخاطب کی تعظیم مقصود ہے، دوسرے یہ کہ جب تم کسی کو سلام کرو تو سلام کرتے وقت یہ نیت کرو کہ میں تین افراد پر سلام کررہا ہوں، ایک اُس شخص کو اور دو اُن فرشتوں کو سلام کرتا ہوں جو اُس کے ساتھ ہر وقت رہتے ہیں، جن کو ’’کِراماً کاتبین‘‘ کہا گیا ہے، ایک فرشتہ انسان کی نیکیاں لکھتا ہے، دوسرا فرشتہ اُس کی برائیاں لکھتا ہے؛اِس لیے سلام کرتے وقت اُن کی بھی نیت کرلو؛تاکہ تمہارا سلام تین افراد کو ہوجائے اور اب ان شاء اللہ تین افراد کو سلام کرنے کا ثواب مل جائے گا، اور جب تم فرشتوں کو سلام کروگے تو تمہارے سلام کا ضرور جواب بھی دیں گے ،اور اِس طرح اُن فرشتوں کی دعائیں تمہیں حاصل ہوجائیں گی، جواللہ تعالیٰ کی معصوم مخلوق ہیں۔آگے فرماتے ہیں: اِسی وجہ سے بزرگوں نے فرمایا: کہ نماز کے اندر جب آدمی سلام پھیرے تو داہنی طرف سلام پھیرتے وقت یہ نیت کرلے کہ میرے دائیں جانب جتنے مسلمان اور جتنے فرشتے ہیں اُن سب پر سلامتی بھیج رہا ہوں اور جب بائیں جانب سلام پھیرے تو اُس وقت یہ نیت کرلے کہ میرے بائیں جانب جتنے مسلمان اور جتنے فرشتے ہیں اُن سب پر سلامتی بھیج رہا ہوں،اور پھر یہ ممکن نہیں ہے کہ تم فرشتوں کو سلام کرو اور وہ جواب نہ دیں، وہ ضرور جواب دیں اور اِس طرح اُن کی دعائیں تمہیں حاصل ہوجائیں گی؛ لیکن ہم لوگ بے خیالی میں سلام پھیر دیتے ہیں او رنیت نہیں کرتے، جس کی وجہ سے اِس عظیم فائدے اور ثواب سے محروم رہ جاتے ہیں۔(۱) (اصلاحی خطبات:۶؍۱۶۳)