اسلام کا نظام سلام ومصافحہ - یونیکوڈ - غیر موافق للمطبوع |
|
کسی کی تکلیف، وحشت، اِنقباض، تکدُّر اور خلل کا ذریعہ نہ بنے؛ بالخصوص بابِ معاشرت کے تحت جتنے احکام آتے ہیں، آپ اُن کا بغور جائزہ لیں گے تو ایک بات جو بنیادی طور سے معلوم ہوگی، وہ یہ کہ اپنے فعل سے خواہ وہ جائز ہو یا مستحب یا پھر فرض و واجب، کسی کوتکلیف نہیں ہونی چاہیے، اور تکلیف کا مفہوم بہت وسیع ہے، تکلیف کا مطلب صرف یہ نہیں ہوتا ہے کہ قصداً کسی کا جانی ومالی نقصان کردیا جاجائے؛ بلکہ تکلیف کے مفہوم میں خلل، انقباض اور وحشت وخوف بھی داخل ہے، اِس سلسلے میں حضرت تھانویؒ کی ’’آداب المعاشرت‘‘ کا مطالعہ ہر مسلمان شخص کو کرنا چاہیے، حضرت نے بڑی حکیمانہ بحث کی ہے۔ سلام کی کثرت واشاعت کی شریعت نے ترغیب دی ہے، اس میں تکرار کو محمود قرار دیا گیا ہے؛ لیکن چند مواقع ایسے ہیں جہاں شریعت نے سلام کرنے سے منع کردیا ہے، اور کچھ مواقع ایسے ہیں جہاں فقہاء نے سلام کرنے سے منع کیا ہے اور دونوں کی مشترکہ علت وہی ہے ’’کسی کو تکلیف نہ پہنچے‘‘ فقہائِ احناف نے جن مواقع پر سلام سے منع کیا ہے،اُن کے پیش نظر جو علت ہے(جو بہت اہم ہے) اُس کو سامنے رکھا جائے تو فقہاء احناف کی علمی گہرائی وگیرائی کا اندازہ ہوتا ہے، یہ علت جن حضرات سے مخفی رہی یا وہ سطحی علم کے مالک ہیں، انہوں نے فقہاء احناف پر اعتراض کیا ہے کہ دیکھیے شریعت نے اِفشائِ سلام کا حکم دیا ہے اور یہ لوگ (فقہاء احناف) منع کرتے ہیں؛ نمونہ دیکھنا ہو تو ’’سلام کے احکام و فضائل‘‘ نامی کتاب کا مطالعہ کریں، مولف ِکتاب نے اپنی کتاب کے دوسرے حصے کو صرف احناف پر بیجا اعتراضات کے لیے ہی خاص کیا ہے، کاش وہ اس دقیق علت کو جو بابِ معاشرت کی روح ہے، سمجھتے۔ چوں کہ اب ایسے مواقع کاتذکرہ کرنا مقصود ہے، جہاں سلام کرنا مکروہ وممنوع ہے؛اِس لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ حضرت تھانویؒ کی بات جو حکمت سے پُر ہے اور جو ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے، اور جس سے بابِ معاشرت کے بے شمار مسائل حل ہوتے ہیں، یہاں نقل کردی جائے؛ تاکہ اُس کی روشنی میں ممنوعات سلام کا سمجھنا آسان ہو، مولف راقم الحروف کا جی تو یہ چاہتا ہے کہ از اول تا آخر پوری بحث نقل کردی جائے؛ لیکن طوالت کا خوف، مانع ہے، اختصار پیش ہے۔ حق تعالیٰ کا ارشاد ہے: اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلس میں جگہ فراخ کرو، تو جگہ کو فراخ کردیا کرو اور تم سے کہا جائے کہ کھڑے ہو جاؤ تو کھڑے ہوجایا کرو۔(مجادلہ: ۱۱) اور ارشاد ہے: کہ دوسرے کے گھر میں (گو وہ مردانہ ہو؛ مگر خلوت گاہ ہو) بے اجازت لیے مت جایا کرو۔(نور: ۲۷)دیکھیے ا س میں اپنے جلیسوں کی راحت کی رعایت کا کس طرح حکم فرمایا ہے۔ آگے لکھتے ہیں: حضرت سعید بن مسیب سے مرسلاً مروی ہے کہ: عیادت میں بیمار کے پاس زیادہ نہ بیٹھے، تھوڑا بیٹھ کر ہی جلد اٹھ کھڑا ہو(ابوداؤد) اِس حدیث میں کس قدر دقیق رعایت ہے، اِس امر کی کہ کسی کی گرانی کا سبب بھی نہ بنے؛ کیوں کہ بعض اوقات کسی کے بیٹھنے سے مریض کو کروٹ بدلنے میں یا پاؤں پھیلانے میں یا بات چیت کرنے میں، ایک گونہ تکلُّف ہوتا ہے، جس کے بیٹھنے سے اُس کو راحت ہو وہ اِس سے مستثنی ہے…… اور سنن نسائی میں حضرت عائشہؓ سے مروی ہے کہ شب برأت کوحضورﷺ بستر پر