معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
ناخنِ تدبیر گھس جانے کے بعد پردۂ اسباب جل جانے کے بعد پس تری جانب ہے اب میری نِگاہ ناؤ میری پار ہو از فضلِ شاہ (من فیوضِ مرشدیؒ) پرانی قبرکے اس غار میں پیرچنگی اس طرح آہ وزاری میں مشغول تھااور آنکھوں سے خونِ دل بہہ رہاتھاکہ حق تعالیٰ کا دریائے رحمت جوش میں آگیا اورحضرت عمرفاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو الہام ہوا کہ اے عمر! میرا فلاں بندہ جو اپنی خوش آوازی کے سبب زندگی بھر مخلوق میں مقبول ومحبوب رہاہے اور اب بوجہ پیری آواز خراب ہوجانے سے ساری خلقت نے اسے چھوڑدیاہے اور یہ قطعِ سلسلۂ اسباب اور غمِ ناکامی اس کی ہدایت کا اور میری طرف رجوع کا سبب بن گیاہے تو اب میری رحمتِ واسعہ اس کی خریدارہے ؎ قبول است گرچہ ہنر نیست است کہ جز ما پناہِ دگر نیست است اگرچہ زندگی بھر وہ نافرمان وغافل رہاہے لیکن میں اس کی آہ وزاری کو قبول کرتاہوں۔ کیوں کہ میری بارگاہ کے علاوہ میرے بندے کے لیے کوئی اور جائے پناہ نہیں۔ پس اے عمر! آپ بیت المال سے کچھ معتد بہ رقم لے کر اس قبرستان میں جائیے اور میرے بندۂ عاجزومضطر کو میرا سلام پیش کیجیے۔ پھر یہ رقم پیش کرکے کہہ دیجیے کہ آج سے حق تعالیٰ نے تجھے اپنا مقرب بنالیاہے اور اپنے فضل کو تیرے لیے خاص کردیاہے۔ اب تجھے ملولِ خاطر ہونے کی ضرورت نہیں نہ ہی مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت ہے۔ اے عمر! میرے اس بندے سے کہہ دو کہ حق تعالیٰ نے ہمیشہ کے لیے غیب سے تیری روزی کا انتظام کردیاہے ؎