معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
پس جنت سے اسی وقت ایسی خوشبو آئی جس نے بچے اورماں کے دماغ کو معطر کردیا۔ آں کسے را خود خدا حافظ بود مرغِ و ماہی مراورا حارس شود جس شخص کا خدا خود نگہبان ہو اس کاتحفظ مرغ ماہی بھی کرتے ہیں ۔بچے کے ساتھ ساتھ،اس کی ماں ایمان واسلام کی دولت سے مشرف ہوگئی اور اس نے اسی وقت کلمۂ شہادت پڑھ لیا۔حکایت رسول ِخدا صلّی اللہ علیہ وسلّم کا موزہ لے جانا عقاب کا حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بار موزہ پہننے کا قصدفرمایالیکن دیکھاکہ اچانک آپ کا موزہ ایک عقاب اُڑا لے گیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کوحیرانی ہوئی اور رنج بھی ہوا۔ لیکن تھوڑے ہی وقفہ بعد دیکھاکہ عقاب نے موزے کامنہ زمین کی طرف کیا جس سے ایک سیاہ سانپ گرا اور اس عمل کے بعد عقاب نے موزہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کرکے عرض کیا۔ از ضرورت کردم ایں گستاخئے من ز ادب دارم شکستہ شاخئے اے رسولِ خدا!میں نے اسی ضرورت سے یہ گستاخی کی تھی کہ اس کے اندرسانپ گھساہواتھا۔ مجھے حق تعالیٰ نے آپ کی حفاظت پرمامورفرمایاورنہ میری کیامجال تھی میں تو آپ کے سامنے سراپاادب اور شکستہ بازوہوں ؎ پس رسولش شکر کرد و گفت ما ایں جفا دیدیم و بود آں خود وفا حضورصلی اللہ علیہ وسلم خداکاشکر بجالائے اورفرمایا:ہم نے جس حادثے کوباعثِ صدمہ سمجھا وہ دراصل وفا اورباعثِ رحمت تھا۔ موزہ بر بودی و من درہم شدم تو غمم بردی و من در غم شدم