معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
لطف و سالوسِ جہاں خوش لقمہ ایست کمترش خور کاں پُر آتش لقمہ ایست نفس کو دنیا والوں کی تعریف اور خوشامد بہترین لقمہ معلوم ہوتاہے، ایسے لقمے کو مت کھاؤکہ یہ لقمہ آگ ہی سے پُر ہے یعنی تکبر میں مبتلا کرکے دوزخ تک لے جاوے گا۔ آدمی فربہ شود از راہِ گوش جانور فربہ شود از حلق و نوش انسان(تعریف سن کر) کان کے راستے موٹا ہوتاہے اورجانور بھوسہ کھلی سے موٹا ہوتاہے۔ نفس از بس مدحہا فرعون شد کُنْ ذَلیْلَ النَّفْس ہَونًا لَا تَسُدْ نفس زیادہ تعریف سن کر فرعون ہوجاتاہے اس لیے اپنے کو مٹاکر رہو اور سرداری مت تلاش کرو۔طلبِ دنیا انبیا را کارِ عقبیٰ اختیار جاہلاں را کارِ دنیا اختیار انبیاء علیہم السلام نے آخرت کاکام اختیار کیا اور دنیا کو آخرت کے تابع رکھا اور جاہلوں نے کارِ دنیا اختیار کیا اورآخرت کو پسِ پشت ڈال دیا۔ گر بہ بینی میلِ خود سوئے سما پرِّ دولت بر کشا ہمچو ہُما اگر اپنے قلب میں حق تعالیٰ کی طرف رجحان ومیلان محسوس کرو تو حق تعالیٰ کے اس جذبِ خفی کاشکراداکرواوراپنے دل کے پروں کو سیر الی اللہ کے لیے کشادہ کرلو مثل ہماکے ۔