معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
وصال کے لیے استسقا ایک بیماری ہے جس میں پانی پیتے پیتے پیٹ تن کر آدمی مرجاتاہے لیکن پیاس نہیں بجھتی۔ پنج وقت آمد نماز رہنموں عاشقاں را ھم صلوٰۃً دائموں یہی سبب ہے کہ عوام کے لیے پنجگانہ نمازوں کا اداکرنا بھی دشوار ہوتاہے اور عاشقین ہر وقت نماز ہی میں رہنا چاہتے ہیں۔ جب دیکھو ہاتھ باندھے اپنے مولیٰ کے سامنے کھڑے ہیں اور ان کی آنکھوں کی ٹھنڈک نماز ہی میں ہے۔ یعنی اولیائے امت کو مشکوٰۃِ نبوت سے قرۃ عینی فی الصلٰوۃ کا انعام عطا ہوتاہے۔ نیست زُرْغِبًّا وظیفہ ماہیاں زانکہ بے دریا ندارند انسِ جاں اس شعر میں مولانا جلال الدین رومیؔ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک تمثیلی دلیل بیان فرماکر اپنے دعویٰ کو واضح فرمادیا ہے کہ کیا تم مچھلیوں سے یہ کہہ سکتے ہو کہ پانی سے ملاقات ناغہ دے کر کیا کرو۔ کیوں کہ مچھلیاں بدون دریا کے اپنی جانوں میں چین و سکون اور انس نہیں پاسکتی ہیں۔در بیانِ دیوانگی ہرچہ غیر شورش و دیوانگی ست در رہِ او دوری و بیگانگی ست جو مشاغل کہ ذکرِ محبوبِ حقیقی سے تعلق بلاواسطہ یا بواسطہ نہیں رکھتے وہ ان کی راہ میں حجابات اور باعثِ فراق و بُعد ہیں ذکر بلا واسطہ کی مثال جیسے ذکراللہ ، تلاوت، نماز وغیرہ اور بواسطہ کی مثال جیسے کسی لاوارث مریض کی تیمارداری اور خدمت یا کسبِ معاش اور حقوقِ واجبہ میں بہ نیتِ رضائے مولیٰ مصروف ہونا اور قلب کو اس وقت بھی حق تعالیٰ