معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
دربیانِ حصولِ استقامت از مثالِ قطب نما (استقامت کے حصول کی مثال قطب نما سے) بشنو از من ایں مثالِ خوشنما اے کہ دیدی بارہا قطبِ نما مجھ سے ایک مثال سنو کہ آپ نے بارہا قطب نما دیکھا ہوگا۔ استقامت ہست او را در شمال گرچہ گردانی بہر سو از شمال ہر وقت اس کی سوئی شمال کی طرف مستقیم رہتی ہے اگرچہ قطب نما کو کسی طرف بھی چکر دو مشرق یا مغرب یا جنوب مگر اس کی سوئی شمال ہی کی طرف ہوجاتی ہے۔ ایں ز مقناطیس حاصل می شود بر فلک ہم جنسیِ او می کشد یہ بات اس قطب نما کو کیوں حاصل ہے اس وجہ سے کہ اس کی سوئی میں مقناطیس کا مادّہ لگاہوا ہے جس کے سبب فلک پر قطب ستارہ کا مرکز جہاں مقناطیس کا خزانہ ہے ہم جنسی کے سبب اس سوئی کو اپنی طرف کھینچے رکھتاہے۔ وزنہا دارد حدیدے گر دروں گر ندارد آں کشش باشد زبوں دوسرے لوہے میں جس قدر وزن بھی ہو مگر اس کو یہ استقامت حاصل نہیں جو قطب نما کی ذراسی سوئی کو حاصل ہے۔ ہمچنیں بر قلب نورِ حق بزد تاکہ نورِ حق بسوئے حق کشد اسی طرح اپنے دل میں ذکر کے اہتمام اور التزام سے اللہ تعالیٰ کا نور حاصل کرو تاکہ