معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
کاپاسبان سمجھ کران سے محبت اوران کی خدمت سے حصولِ رضائے الٰہی کی امیدرکھو۔ اگرکمشنرکے کتے کوتکلیف دینے سے مخلوق ڈرتی ہے تودراصل یہ خوف کمشنر کا شمار کیاجاتاہے ، اسی طرح مولیٰ سے جس کوجس قسم کی بھی نسبت خصوصی یاعمومی حاصل ہواس کاخیال اسی فرقِ مراتب سے کرناحق تعالیٰ ہی کے آداب بجالاناہے۔مگریہ باتیں محروم لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی ہیں جیساکہ مولانانے فرمایاہے کہ ؎ اے خدا جوئیم توفیقِ ادب بے ادب محروم ماند از فضلِ رب اے خدا!ہم آپ سے ادب کی توفیق مانگتے ہیں کیوں کہ بے ادب وہی ہوتاہے جو آپ کے فضل سے محروم ہوتاہے۔ اے اللہ! ہم سب کو توفیقِ ادب نصیب فرما۔ آمین۔حکایتِ لیلیٰ و خلیفۂ بغداد ایک بار خلیفۂ بغدادنے لیلیٰ سے کہا: گفت لیلیٰ را خلیفہ کاں توئی کز تو مجنوں شد پریشان و غوی لیلیٰ سے خلیفۂ وقت نے کہاکہ توایسی کالی کلوٹی ہے پھربھی مجنون تیرے عشق میں پاگل ہورہاہے ۔ از دگر خوباں تو افزوں نیستی گفت خامش چوں تو مجنوں نیستی اورتودوسری خوبصورت عورتوں سے کچھ بھی توامتیازی صفت نہیں رکھتی پھریہ مجنون کیوں دیوانہ ہے۔ لیلیٰ نے جواب دیا:اے خلیفہ خاموش! کیوں کہ تومجنون نہیں۔