معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
طرف روانہ ہوگیا اور ایک پرانی و شکستہ قبر کے غار میں جابیٹھا۔ روتے ہوئے اس نے حق تعالیٰ سے عرض کیاکہ اے اللہ! آج میں تیرا مہمان ہوں ۔ جب ساری مخلوق نے مجھے چھوڑدیا تو اب بجز تیری بارگاہ کے میرے لیے کوئی پناہ گاہ نہیں ہے اور بجز تیرے کوئی میری اس آواز کا خریدار نہیں ہے، اے اللہ!آشنا بیگانے ہوچکے اور اپنے پرائے ہوچکے، اب سوائے آپ کے میری کوئی پناہ گاہ نہیں ہے، اے اللہ! میں بڑی امیدیں لے کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہواہوں۔ اپنی رحمت سے آپ مجھے نہ ٹھکرائیے۔احقر نے اس مضمون کواپنی مثنوی میں یوں بیان کیا ہے ؎ پیر چنگی نے دعا کی اے خدا ! خلق پروانہ تھی جب تھا خوشنوا اب تمسخر ہے مری آواز کا رائگاں ہے فن یہ چنگ و ساز کا اب مدد مجھ کو تیری درکار ہے فنِ موسیقی مرا بے کار ہے آشناں ہیں مثل اب بیگانگاں درسِ عبرت ہےمری سب داستاں پیر چنگی گرچہ بد کردار ہے پر بڑی عالی تری سرکار ہے ’’ اے پناہِ ما حریمِ کوئے تو من با میدے رسیدم سوئے تو‘‘ کوئی دروازہ نہیں تیرے سوا چھوڑ کر تجھ کو کہاں جاؤں بھلا ؟