معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
عرش تک پہنچی تیری آہ و بکا مشتری تیرا ہے خود ربّ العُلاء تیرے نالوں میں جو ہے خونِ جگر تیری آہوں میں جو ہے درد ِ جگر گریۂ غم ناک تیرا ہے قبول رنجِ فاقہ سے نہ ہو تو اب ملول جذبِ حق سے تو ہوا خاصِّ خدا پھینک دے اب چنگ و سازِ دلربا ’’ آدما معنیٰ دلبندم بجوئے ترک قشر و صورت گندم بگوے‘‘ (من فیوضِ مرشدیؒ) حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جس وقت ہاتفِ غیبی سے یہ آواز سنی تو بے چین ہوگئے۔ فوراً اٹھے اور بیت المال سے کچھ رقم لے کرقبرستان کی طرف چل دیے۔ وہاں پہنچ کردیکھتے ہیں کہ ایک فرسودہ وشکستہ قبر کے غار میں ایک بڈھا چنگ لیے ہوئے سوگیاہے اور اس کا چہرہ و داڑھی آنسوؤں سے تر ہے۔ اور اسی اشکِ ندامت سے اس کو یہ مقام ملا۔ اسی کو مولانا رومیؔ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ پیر چنگی کے بود خاصِّ خدا ؟ حَبَّذا! اے سرِّ پنہاں حبّذا چنگ بجانے والا بڈھا کب خاص اور مقبول ہوسکتاتھا۔ مبارک ہو اے رازِ پنہاں! مبارک ہو۔ اسی قدرت کو صاحبِ گلزار ابراہیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں ؎ اہلیہ لوطِ نبی ہو کافرہ زوجۂ فرعون ہو وے طاہرہ