معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
کس نمی داند بجز تو رازِ من اے توئی ہمرازِ من دلسازِ من اے خدا! آپ کے سوا ہمارے راز کوکوئی نہیں جانتا اور آپ ہی ہمارے ہمراز اور دلساز ہیں۔دربیانِ عشقِ حقیقی اے خوشا کو عاشقے باللہ شد پا کباز و عارفے باللہ شد مبارک ہے وہ شخص جو حق تعالیٰ کا عاشق ہوگیا اور پاکباز اور عارف باللہ ہوگیا۔ اے خدائے پاک ربِّ دو جہاں من کجا یابم ترا اندر جہاں اے خدا! اے دونوں جہان کے رب! میں تجھے اس جہان میں کہاں پاؤں ۔ دل ہمی خواہد کہ زیں عالم روم جسم بگذارم سوئے جاناں روم دل چاہتاہے کہ اس عالمِ فانی سے جلد رخصت ہوں، جسم سے روح کو مجرّد کرکے محبوبِ حقیقی کی طرف پرواز کروں۔ آں دلے کز عشقِ حق بیمار شد زیں حیاتِ عارضی بے زار شد جو دل کہ عشقِ حق سے بیمار ہوتاہے وہ اس حیاتِ فانی سے بے زار ہوتاہے (بزرگوں نے لکھاہے کہ دنیا سے دل کا اُچاٹ ہونا زہد کا پہلا قدم ہے) بے تو ایں خوش رنگیٔ کون و مکاں خوش نمی آید بجانِ عاشقاں اے خدا! آپ کے بغیر یہ کائنات کی رنگینیاں عاشقوں کی جانوں کو اچھی نہیں معلوم ہوتی ہیں ۔