معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
دربیانِ لذتِ ذکرِ محبوبِ حقیقی (ذکر اللہ کی لذت کا بیان) عاشقے کو ذکرِ حق دائم کند روح بر عرشِ بریں قائم کند جو عاشق ذکر ہمیشہ کرتاہے وہ روح کو زمین پر رہتے ہوئے عرشِ بریں پر قائم کرتاہے یعنی قرب کا اعلیٰ مقام پالیتاہے۔ نورِ حق از ذکرِ حق در جاں رسد از زباں در دل ز دل تا جاں رسد نورِ حق ذکرِ حق سے جان میں داخل ہوتاہے اور اس طرح کہ زبان سے جب اللہ کا نام جاری ہوتاہے تو اس کا نور دل میں پھر دل سے جان تک منتقل ہوجاتاہے اور قلب و روح دونوں منور ہوجاتے ہیں۔ ذکرِ حق اے دل برائے عاشقاں ہمچو مرہم ہست بر زخمِ نہاں اے دل! خدا کا ذکر عاشقوں کے لیے مثلِ مرہم کے ہے ان کے پوشیدہ زخمی دلوں کے لیے۔ سیر گردد روح از ہر دو جہاں نامِ او چو بر زباں گردد رواں ذکر کی برکت سے دل دونوں جہان سے سیر چشم ہوجاتاہے۔ من چہ گویم لذتِ نامِ خدا لذتِ ہردو جہاں پیشش گدا میں کیا کہوں کہ کیا لطف ہے ذکر میں۔ ارے! دونوں جہاں کی لذت اس کے لطف کے سامنے ہیچ اور بے قدرہے۔