معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
بیداری اختیارکر۔ ہر کہ جدّے کرد در حدّے رسید ہرکہ رنجے دید گنجے شد پدید جس نے کوشش اور مجاہدہ کیا وہ قربِ حق پاگیااورجس نے بھی مشقت و رنج برداشت کیا اس نے خزانۂ باطنی پالیا۔ ایں ریاضتہائے درویشاں چرا ست کہ فنائے تن بقائے جانہا ست درویشوں کو ریاضتیں کیوں کرنی پڑتی ہیں تاکہ فنائے خواہشات تن سے بقائے روح کی نعمت حاصل ہو۔ چوں ز چاہے می کند ہر روز خاک عاقبت اندر رسی در آبِ پاک جب ہرروز خاک کنویں کے لیے نکالتے رہوگے تو ایک دن ضرورپانی تک رسائی حاصل ہوگی۔ گر تو خواہی حُری و دل زندگی بندگی کن بندگی کن بندگی اے مخاطب! اگر تو ہوائے نفس سے آزادی اور دل کی حیاتِ بے بہا کا طالب ہے تو بندگی کر، بندگی کر۔یعنی سراپا اطاعت ِحق میں لگ جا۔ذکروفکرومراقبہ اذکر وا اللہ شاہِ ما دستور داد اندر آتش دید و ما را نور داد حق تعالیٰ نے ہم کو اپنی کثرتِ یاد کا دستور عطافرمادیا۔ ہم خواہشاتِ نفسانیہ کی آگ میں