معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
اور حق تعالیٰ کے افضال و الطاف سو سالہ کافر کو آنِ واحد میں ابدال بنا دیتے ہیں۔ یعنی اسلام و ایمان عطا فرماتے ہی ولایت کے اعلیٰ مقام سے نوازدیتے ہیں۔ گر نہ لطفش می کشیدے جانِ من نے بُوَد اسلامِ من ایمانِ من اگر حق تعالیٰ کا کرم ہماری جان کو اپنی طرف جذب نہ کرے تو نہ ہمارا اسلام باقی رہے اور نہ ایمان۔ او بسا شہرے کہ ویران می کند بعد ازیں از فضلِ آباداں کند اس کی قدرتِ قاہرہ بہت شہروں کو ویران کرتی ہے اس کے بعد اپنے فضل سے آباد فرمادیتے ہیں۔ مراد یہاں دلوں کا شہر ہے یعنی معاصی اور ارتکابِ جرائم کی پاداش میں دل کا نور چھین لیتے ہیں جس سے دل کی بستی اجڑجاتی ہے پھر توبہ و استغفار اور گریہ و زاری کی توفیق بخش کر ان اجڑے دلوں کو اپنے انوارِ قرب و رضا سے پھر آباد کردیتے ہیں۔ اے ز لطفش زشت خوئی کرگساں شد مبدل سیرتِ شہبازگاں اے اللہ!آپ کا کرم کرگسوں کی بُری عادتوں کو شہبازوں کی اچھی سیرت سے مبدّل فرمادیتاہے یعنی نہایت بدعمل اور بد خوکو خوش عمل اور خوش خو کردیتاہے۔ بس عجوزے رستم و سہراب شد از تو خاکِ شورہ ہم شاداب شد اور اے اللہ! آ پ کے کرم سے بہت سے عجوز صفت مرد( پست ہمت) ہمتِ عمل میں رستم اور سہراب ہوگئے یعنی نیک کاموں میں سست تھے اور آپ کی توفیق سے چست و چالاک باہمت ہوگئے۔ سست گامے از رجال اللہ شد ایں مقامِ شکر و حمد اللہ شد