معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
طاقت پرواز بخشد مور را راہ بری بخشد عصائے کور را وہ اللہ صاحبِ قدرۃِکاملہ چیونٹی کو طاقتِ پرواز عطا کرتاہے اور مادر زاد اندھے کی لاٹھی کو شانِ راہبری عطا کرتاہے۔ روبہے را ہمتِ شیراں دہد دستِ خود بر پشتِ او چو می نہد اور اگر چاہے تو لومڑی کو شیروں جیسی ہمت دے دیتاہے جب کہ اپنا ہاتھ لومڑی کی پشت پر رکھ دیتاہے کہ گھبرانا مت ہم تمھارے ساتھ ہیں چناں چہ بے سروسامان اور مادّی لحاظ سے کس قدر کمزور اصحابِ کہف تھے لیکن ان کے دلوں پر اپنے رابطے کا فیضان ڈال کر وَ رَبَطۡنَا عَلٰی قُلُوۡبِہِمۡ؎ کا معجزہ دکھادیا چناں چہ وہ کس قدر باہمت ہوکر اس وقت کے کافرظالم بادشاہ سے مناظرۂ اثباتِ حق اور امحائے باطل کررہے تھے۔ اور اس کی شاہی فوج اور جاہ سے بالکل مرعوب نہ ہوئے تھے حالاں کہ یہ حضرات نانبائی، دھوبی، حجّام جیسے غریبوں کے لائق اور قابلِ رشک فرزند تھے جنھوں نے کبھی سلطان کیا معمولی حاکمِ وقت سے بھی بات نہ کی تھی ۔ زاغ را بخشد نوائے بلبلاں ہم سگاں را می کند شیرِِ نراں اور وہ اللہ جب چاہتاہے تو زاغ (کوّا) کو بلبلوں کی خوشنوائی بخشتاہے یعنی بَدوں کو نیک بناکر ان کی زبان سے علوم و مَعارفِ بیان کراتاہے اور کتوں کو شیرانِ نر جیسے عزائم اور حوصلے عطا کرتاہے یعنی پست حوصلہ اور ذلیل انسان کو نیک بنا کر عالی اخلاق و حوصلہ بنادیتاہے۔ کافرِ صد سالہ از افضالِ حق می شود در ساعتے ابدالِ حق ------------------------------