معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
ترجمہ: میں زمانۂ خزاں کے پتے کی طرح نڈھال اور افسردہ ہوں کیوں کہ میری روح آپ کی بہارِ قرب سے مشرف ہوتے ہوئے بھی اور آپ کی عظمتِ سلطانی کا مشاہدہ کرتے ہوئے بھی کوتاہیوں اور ارتکاب و اشتغالِ خطایا میں مبتلا ہوگئی بوجہ نادانی کے۔ گر خفاشے رفت در کور و کبود بازِ سلطان دیدہ را بارے چہ بود اگر چمگادڑ خوئے ظلمت پسندی سے تاریکی اور گندگی میں چلی گئی تو کیا تعجب ہے لیکن تعجب ہے اس بازِ شاہی پر جو سلطان کا مقرب ہے اور سلطان کے دیدار سے مشرف ہے۔ چوں بدیدم لطف و اکرامِ ترا واں سلام و سلمِ پیغامِ ترا لیکن میری خطاؤں کے باوجود جب میں نے آپ کے لطف و اکرام اور سلام و صلح و پیغام کو دیکھا تو میری مایوسی کی آغوش میں امیدوں کے بہت سے آفتاب طلوع ہوگئے اور آپ سے عبدیت کا رابطہ استوار کرنے کی ہمت اور حوصلہ عطا ہوگیا۔ یہاں صلح سے مراد حق تعالیٰ کی طرف سے وعدۂ قبولِ توبہ کا اعلان ہے اور پیغام سے مراد دعوت الی دار السلام ہے۔ من سپندِ چشمِ بد کردم پدید در سپندم نیز چشمِ بد رسید میں نے شیطان کی پُر فریب اور دھوکا دہی والی نظر کے ضرر کو دور کرنے کے لیے سپند جلایا،یہ ایک محاورہ ہے کہ نظرِ بد کے علاج کے لیے اسپند جلایا کرتے تھے، مراد یہ ہے کہ اغواو تلبیس سے بچنے کی تدابیر اختیار کیں لیکن اس نے میری تدبیر میں نظرِ بد لگادی یعنی بعد اہتمامِ تدبیر بھی اس کے پنجے میں گرفتار ہوں۔ دافعِ ہر چشم بد از پیش و پس چشمہائے پُر خمارِ تست و بس