معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
نوٹ : حق تعالی شانہٗ کی صفت کے لیے منتہی کا لفظ محض مشاکلۂ لفظی کے طور پر استعمال کیا گیا ہے مگر مراد مبالغہ فی الکمال ہے جس کی تعبیرِ حقیقی غیر متناہی کمالات سے صحیح ہے۔ دستگیرم در چنیں بیچارگی شاد گردانم دریں غم خوارگی اے اللہ! ایسی سخت بیچارگی میں میری دستگیری فرمائیے اور اپنی غم خوارگی سے مجھے شاد و مسرور کردیجیے۔ از خیال و وہم و ظن بازش رہاں از چہ و جورِ رسن بازش رہاں اے اللہ! خیال اور وہم و گمانِ فاسد سے پھر اس بندے کو رہا کیجیے اور چاہِ ظلمت و نفس کے ظلم سے پھر اس کو رہائی عطا فرمائیے۔ تا ز دلدارئ خوبِ تو دلے پر بر آرد بر مروز آب و گلے تاکہ آپ کی حسین دلداری ( دلجوئی) سے ایک دل نفس کے زشت تقاضوں اور غیر اللہ کے علاقوں سے نکلنے کے لیے پر باہر نکالے۔ یعنی آپ ہمارے قلب کو اپنی طرف جذب فرمالیں تاکہ ہم تعلقات آب و گل( ماسوی اللہ) سے بآسانی نکل کر آپ کے قرب کی لذتِ غیر فانی سے مشرف ہوں، اسی جذب کی طرف ایک بزرگ شاعرنے خوب اشارہ فرمایا ہے ؎ نہ میں دیوانہ ہوں اصغرؔ نہ مجھ کو ذوقِ عریانی کوئی کھینچے لیے جاتاہے خود جیب و گریباں کو زاں مثالِ برگ وے پثرمردہ ام کز بہشتِ وصل گندم خوردہ ام نوٹ:یہاں بہشتِ وصل سے مراد سرورِ طاعت ہے اور گندم خوردن سے مراد ارتکابِ خطا ہے۔