معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
یہ اللہ والے بزرگانِ دین اگرچہ صورۃً زمین پر نظر آتے ہیں مگر ان کی روحیں عرش والے کے پاس ہوتی ہیں بوجۂ خاص تعلق و رابطہ کے اور یہ باتیں یعنی ان اولیائے پاک کے مقاماتِ رفیعہ جو عالمِ لامکاں سے ہیں ہمارے وہم و تصور سے مافوق و بالاتر ہیں۔ ماہیانِ قعرِ دریائے جلال بحرِ شاں آموختہ سحرِ حلال یہ دریائے جلال کی گہرائیوں کی مچھلیاں ہیں اور حق تعالیٰ کے بحرِ قرب نے انہیں سحرِحلال یعنی کلامِ مؤثر عطافرمایاہے۔ شیخِ نورانی ز رہ آگہہ کند نور را با لفظہا ہمرہ کند اللہ والے نورانی مشایخ حق تعالیٰ کے راستے سے بھی آگاہ کرتے ہیں اور اپنے ارشادات کے الفاظ کے ہمراہ اپنے انوارِقلوب بھی شامل کردیتے ہیں۔ کارِ مرداں روشنی و گرمی ست کارِ دُوناں حیلہ و بے شرمی ست مَردوں کا کام روشنی و گرمی ہے یعنی سرگرمئ عمل ان کا شیوہ ہوتاہے اور کمینوں کا کام حیلہ و بہانا سازی اور بے شرمی ہے یعنی مجاہدات سے جان چراتے ہیں۔ از حدیثِ شیخ جمعیت رسد تفرقہ آرد دمِ اہلِ جسد اللہ والوں کی باتیں قلب کو سکون عطاکرتی ہیں اور اہلِ ظاہر کی باتیں دل میں انتشار اور بے اطمینانی پیداکرتی ہیں۔ چوں کہ دستِ خود بدستِ او دہی پس ز دستِ آ کلاں بیروں جہی اور جس دن تو کسی مرشدِ کامل کے ہاتھ پر بیعت و توبہ کرے گا اسی دن گمراہ کرنے والے تمام طبقات اور ان کے نظریاتِ باطلہ اور افکارِ کاسدہ کے دام سے خلاصی پاجاوے گا۔