معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
ایک نے خاک سونگھی اوربتادیا کہ شاہی خزانہ یہاں ہے ، ایک نے کمند پھینکی اور شاہی محل میں داخل ہوگیا۔ نقب زن نے نقب لگادی اور آپس میں خزانہ تقسیم کرلیا اور جلدی جلدی ہر ایک نے مالِ مسروقہ پوشیدہ کرلیا۔بادشاہ نے ہر ایک کا حلیہ پہچان لیااور ہرایک کی قیام گاہ کے راستوں کومحفوظ کرلیااور اپنے کو ان سے مخفی کرکے محلِّ شاہی کی طرف واپس ہوگیا۔ بادشاہ نے دن کو عدالت میں شب کا تمام ماجرا بیان کرکے سپاہیوں کو حکم دیاکہ سب کو گرفتارکرلو اور سزائے قتل سنادو۔ جب وہ سب کے سب مشکیں کسی ہوئی عدالت میں حاضر ہوئے تو تختِ شاہی کے سامنے ہرایک خوف سے کانپنے لگا لیکن وہ چور جس کے اندریہ خاصیت تھی کہ جس کو اندھیری رات میں دیکھ لیتا دن میں بھی اس کو بے شبہ پہچان لیتا وہ مطمئن تھا۔ اس پر خوف کے ساتھ رجاء کے آثار بھی نمایاں تھے، یعنی ہیبتِ سلطانی اورقہرِ انتقامی سے ترساں اور لطفِ سلطانی کا امیدوارتھاکہ حسبِ وعدہ جب مراحمِ خسروانہ سے داڑھی ہل جاوے گی تو فی الفور خلاصی ہوجاوے گی اور حسبِ وعدہ میں اپنے تمام گروہ کو بھی چھڑالوں گا کیوں کہ غایتِ مروت سے بادشاہ اپنے جان پہچان والے سے اعراض نہ کرے گابلکہ عرض قبول کرکے سب کو چھوڑ دے گا۔ اس شخص کا چہرہ خوف وامید سے کبھی زرد کبھی سرخ ہورہاتھاکہ بادشاہ محمود رحمۃ اللہ علیہ نے جلالتِ خسروانہ کے ساتھ حکم نافذفرمایاکہ ان سب کو جلّادوں کے سپرد کرکے دار پر لٹکادو اور چوں کہ اس مقدّمے میں سلطان خود شاہد ہے اس لیے کسی اور کی گواہی ضروری نہیں۔ یہ سب سنتے ہی اس شخص نے دل کو سنبھال کر ادب سے عرض کیاکہ اگر اجازت ہو تو ایک بات عرض کرنا چاہتاہوں۔ اجازت حاصل کرکے اس نے کہا: حضور! ہم میں سے ہرایک نے اپنے مجرمانہ ہنر کی تکمیل کردی اب خسروانہ ہنر کا ظہورحسبِ وعدہ فرمادیاجائے۔ میں نے آپ کو پہچان لیاہے، آپ نے وعدہ فرمایا تھا کہ میری داڑھی میں ایسی خاصیت ہے کہ اگر کرم سے ہل جاوے تو مجرم خلاصی پاجاوے۔ لہٰذا اے بادشاہ! اب اپنی داڑھی ہلادیجیے تاکہ آپ کے لطف کے صدقے