معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
اے مخاطب! بہت سے شیرلیلیٰ کی گلی کے کتے کے غلام ہوگئے اور چوں کہ یہ راز زبان سے ظہورپذیرنہیں ہوسکتے اس لیے میں خاموش ہوتاہوں اورالسلام علیکم کہتاہوں۔ گر ز صورت بگزرید اے دوستاں جنت است و گلستاں در گلستاں اے لوگو! اگرصورت پرستی سے تم آگے عبورکرجاؤاوران صورتوں کے خالق سے رابطہ قائم کرلوکہ خالق ہی حسن کااصل سرچشمہ ومرکزہے تودنیاہی سے تمھیں جنت کا لطف شروع ہوجاوے اورہرطرف گلستان ہی گلستان نظرآوے۔ فائدہ : اس حکایت میں یہ سبق موجودہے کہ لیلیٰ کی محبت میں مجنون کی تویہ عقل وادب ہوکہ محبوب کی گلی کا کتابھی پیارامعلوم ہواورمولیٰ کے عاشقوں کومکہ شریف اور مدینہ شریف کے شہروالوں سے محبت نہ ہو!اور حج سے واپس آکران حضرات کی شکایات اور اعتراضات اور وہاں کی تکلیفوں کاذکرہوتاہے، ایسے لوگوں کے بارے میں تو اندیشہ ہوتاہے کہ ان کا حج بھی قبول نہیں ہے۔ مدینہ شریف میں ایک شخص نے دہی خریدا اورکہا:ارے!یہ توکھٹاہے اس سے اچھا تو ہندوستان کادہی ہوتاہے، رات کو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے ارشادفرمایاکہ او بے ادب! اوعشق سے محروم! مدینہ خالی کردے تواس قابل نہیں کہ یہاں رہے۔ اللہ تعالیٰ سوئے ادبی سے ہم سب کومحفوظ رکھے۔آمین۔ حدیث شریف میں آیاہے کہ اے لوگو! اہلِ عرب سے محبت رکھو۔ مگرافسوس کہ آج ہم کوان آداب کاذرابھی پاس نہیں۔ میرے دوستو!کوئی بات خیرخواہی سے انھیں کو سمجھانا اور بات ہے اوران کی برائیوں سے مجلس گرم کرنااوربات ہے۔ ان کے لیے دل سے دعاکرناہماری سعادت ہے۔ اسی طرح اس واقعہ سے علمائے دین اوراولیائے کرام بالخصوص اپنے شیخ و مرشد اوران کے گھروالوں اوران کی اولادکے حقوق وآداب کاپتا چلتاہے اوراسی طرح مساجد کے اماموں اور مؤذنوں کے احترام کاسبق بھی ملتاہے کہ ان حضرات کومولیٰ کے گھروں