احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
یہ مسائل تو حد بہ ترے عقائد شرک تجھے ہم سمجھے مسلم جو نہ ایسا خوار ہوتا من چاہے مگر منڈیا ہلائے ایک صاحب نے (غالباً براہ تمسخر یا امتحاناً) مرزا قادیانی کو لکھا تھا کہ ’’میں ایک شخص پر عاشق ہوں اگر وہ مل جائے تو مرزا قادیانی کا مرید ہوجائوں گا۔‘‘ اس کے جواب میں حکیم الامۃ المرزائیہ نے اپنے اخبار البدر میں ٹیپ ٹاپ کا مسالے دار خط کسی مرزائی سے لکھوایا جس کے اخیر میں جلی قلم سے یہ لکھا تھا کہ (مرزا قادیانی کو مرید بنانے کا شوق نہیں) ہم پوچھتے ہیں کیا درحقیقت ایسا ہی ہے؟ ضمیمہ میں ایسے واقعات درج ہوچکے ہیں کہ کسی شخص نے ادھر مرزا قادیانی کو خط لکھایا کوئی شخص قادیان میں پھنک ایک پھنک دو کا تماشا دیکھنے آیا ادھر اس کا نام مریدوں کے رجسٹر میں ٹانک دیا گیا اور جھٹ مرزائی اخباروں میں مشتہر کیا گیا مگر مرزا قادیانی کو سیدھے سادھے مسلمانوں کو مرزائی بنانے کا شوق نہ ہوتا تو قادیان میں یہ چہل پہل کہاں سے ہوتی؟ سقنقوری معجونیں کھا کھا کر مرزا قادیانی ساٹھے پاٹھے اور اپاہج مرزائی کیونکر سنڈھیاتے؟ چندے کہاں سے آتے؟ مرزائنیں جڑائو زیور سے لدی ہوئی کیونکر نظر آتیں؟ جائیدادیں اوروں کے نام سے کیونکر رجسٹرڈ کرائی جاتیں؟ کمائو پوت نہ ہوں تو باواجی کے پوپے منہ میں حلوے ملیدے کہاں سے آئیں؟ جتنی اولاد ہوگی اتنی ہی کمائی بڑھے گی۔ بیٹے ہوئے سیانے والد رہ گئے پرانے۔ اور اگر فی الواقع مرزا قادیانی کو مرید بنانے کا شوق نہیں تو رسول اور امام الزمان بننے کا بھی شوق نہیں۔ خدائے تعالیٰ تو آنحضرتa کے بھڑاس پر جو آپ کو گمراہوں کے راہ راست پر لانے کے لئے تھی یوں فرمائے ’’لعلک باخع نفسک علی آثارہم‘‘ یعنی اے محمدa شاید تو ان کے پیچھے اپنے نفس کو ہلاک کرنے والا ہے اور بروزی نبی یوں کہے کہ مجھے مرید بنانے کا شوق نہیں۔ بس جی بس بروزی نبوت کی لٹیا ہی ڈبو دی۔ ہتھیا ہی ہار دی۔ اگر مرید بنانے کا شوق نہیں تو رسالے اور اخبارات کیوں شائع ہورہے ہیں۔ کیوں بھیڑیے کی طرح خاک اڑائی جاتی ہے کیوں رات دن مرزا قادیانی کی بھٹئی ہوتی ہے۔ کیوں پیشینگوئیاں کی جاتی ہیں اور جب کوئی پیشینگوئی پوری نہیں ہوتی تو کیوں تاویلوںسے جوتیوں کان گانٹھے جاتے ہیں اور کیوں عذر گناہ بدتر از گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ رسول اور امام الزمان کی بیعت کرنا اور اس پر ایمان لانا ویسا ہی فرض ہے جیسے رسول پر اپنی رسالت کی تبلیغ فرض ہے۔ پڑھو ’’یاایہا الرسول بلغ ما انزل الیک من ربک الآیہ‘‘ مگر بروزی رسول کا عجیب برزخ ہے