احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
حرف آغاز ساقی! میرے خلوص کی شدت تودیکھنا پھر آگیا ہوں۔ گردش دوراں کو ٹال کر آج پھر تمام مصائب وآلام اور ہر قسم کی مشکلات کو بالائے طاق رکھ کر خدمت کا عملی طور سے آغاز کرنے کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ میں ایک طویل عرصہ کیوں خاموش رہا؟ یہ ایک تلخ حقیقت ہے جس کی تفصیلات میں جانے کا یہ موقعہ نہیں اور میں اس وقت اختصاراً صرف یہی عرض کرنے پر اکتفا کرتا ہوں کہ یہ خطوط جو احباب کرام کی خدمت میں پیش کر رہا ہوں۔ یہ وہ یادگاری خطوط ہیں جو فاضل اجل حضرت شیخ عبدالرحمن مصری مولوی فاضل بی۔اے سابق امیر جماعت احمدیہ قادیان نے مرزامحمود احمد کو بحیثیت خلیفہ تحریر کئے تھے۔ مگر بعد میں پیش آمدہ حالات کی وجہ سے شائع کرنے کی غرض سے کاتب کے حوالے کئے گئے۔ اس کے چند گھنٹے بعد ہی مولانا مولوی فخرالدین صاحب ملتانی مالک احمدیہ کتاب گھر قادیان کو سربازار سوچی سمجھی سکیم کے مطابق سورج کی روشنی میں چار بجے قتل کروایا گیا۔ انا ﷲ وانا الیہ راجعون! اس لئے ان کو ’’یادگاری خطوط‘‘ سے موسوم کیا جارہا ہے۔ بہرحال اپنے تئیں یہ خیال کرتا ہوں کہ اگر یہ خطوط شائع نہ کئے گئے تو مذہبی دنیا کی تاریخ نامکمل اور ادھوری رہے گی۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ تاریخ کی بھی بے حرمتی ہوگی اور انسانیت بھی مجھے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ اندریں حالات اپنے فرض کا کماحقہ احساس کرتے ہوئے یادگاری خطوط منظر عام پر لائے جارہے ہیں۔ تاکہ تاریخ بے حرمتی سے محفوظ ہو جائے۔ بالآخر دنیا کے ہر عقلمند اور سعید الفطرت انسان سے مخلصانہ اپیل کرتاہوں کہ اس کی اشاعت کر کے ثواب دارین حاصل کریں اور جماعت احمدیہ ربوہ کے ہر فرد تک پہنچانے کی پوری پوری سعی کریں تاکہ وہ صحیح راستہ پر گامزن ہو۔ اے خدا تو ہی ہماری مدد فرما خادم احمدیت: محمد مظہرالدین ملتانی ناپسندیدہ بات دیکھ کر خاموش نہ رہو بلکہ اصلاح کی کوشش کرو حضرت مرزابشیراحمد ایم۔اے فرماتے ہیں۔ ’’اخوت اور جماعتی تربیت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ جب ہم اپنے کسی بھائی میں کوئی ناپسندیدہ بات یا خلاف اخلاق یا خلاف شریعت بات