احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
گواہوں کی شرط کو پیش کرتے ہیں۔ ہمارے مخالف کے پاس تو بیسیوں گواہ پیش کرنے کا دعویٰ ہے۔ پس اس قسم کے دلائل عوام الناس کے لئے بجائے تسلی کے اور ٹھوکر کا موجب بن رہے ہیں۔ ان حالات کو پیش کر کے عاجز حضور والا سے قوی امید رکھتا ہے کہ حضور نہ صرف جماعت کی تسلی وتشفی کے لئے بلکہ دیگر بندرگان خدا کی ہدایت کے لئے بھی جو کہ محض اس قسم کے وساوس کی وجہ سے احمدیت جیسی صداقت سے محروم ہو رہے ہیں۔ ان الزامات سے اپنی ذات بابرکات کو پاک وصاف کر کے عنداﷲ ماجور ہوں گے۔ اﷲتعالیٰ حضور کا حافظ ناصر ہو اور دشمنوں کے ہر شر سے محفوظ رکھے۔ آمین! والسلام! فقط آداب! خاکسار: خادم عبدالرحیم مہاجر! عرض حال میرے احمدی بزرگو! بھائیو اور بہنوں! آج سے ستر سال قبل حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) ایک گمنام بستی قادیان میں مبعوث ہوئے۔ انہوں نے ہمیں ایک لائحہ عمل عطا کیا ہم نے اپنی نجات کے لئے یہ عہد کیا کہ ہم دین کو دنیا پر مقدم رکھنا فرض اولین سمجھیں گے اور حضور پرنور کے شرائط بیعت پر پوری طرح عمل کرکے ترقی کے راستہ پر گامزن ہوں گے۔ مگر افسوس ہے کہ ہم بجائے ترقی کے تنزل کی طرف بدستور آرہے ہیں۔ اب ہم نے پرسکون ماحول میں ٹھنڈے دل سے سوچنا ہے کہ تنزل کے اسباب کیا ہیں اور ہم میں کون سی غلطی ہے جس کی وجہ سے آج بے پیندے لوٹے کی طرح ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ اگر میں غلطی نہیں کرتا تو آپ ۱۹۱۴ء تک کے زمانے پر طائرانہ نظر ڈالیں تو ہمیں معلوم ہو جائے گا کہ ہم اس وقت تک کس شہرت کے مالک تھے۔ یعنی دشمن تک کو بھی ہماری دیانت اور امانت کا صحیح طور پر اعتراف تھا۔ عدالت میں بھی ایک احمدی کی گواہی کو بنظر استحسان دیکھا جاتا تھا۔ بلکہ یوں کہنا چاہئے اس کا کردار اور بلند کریکٹر پوری قوم کے لئے ایک نمونہ حیات تھا اور پھر حضرت مسیح موعود (مرزاقادیانی) کی کتابوں سے ظاہر ہے کہ اپنی معترض کی ہر طریق سے تسلی کرواتے تھے۔ جہاں مباہلہ کی ضرورت پیش آتی۔ وہاں آپ اس چیلنج کو قبول فرمالیتے۔ ہم نے ان مجاہدانہ زریں اصولوں کے تحت حق کو قبول کیا وطن چھوڑا حق کی خاطر پچھلے رشتوں ناطوں کو توڑا حق کی خاطر مگر ہمارا جذبہ ایمانی اور طاقت روحانی اس قدر گر چکے ہیں کہ حق گوئی اور راست گفتاری کے لئے اس لئے جرأت نہیں کرتے کہ ہمارے دنیوی اغراض ضائع ہوں گے یا سوشل تعلقات میں فرق پڑے گا اور اخراج یا بائیکاٹ کا بھوت سر پر سوار ہوگا تو پھر ہماری ترقی ایمانی