احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
علاوہ اس کے قرآن وحدیث میں کہیں چودہ سو برس کی شرط نہیں۔ اسلام کے انحطاط وبداخلاقی کے شیوع کو جو آپ نے فرمایا ہے سو کئی سو برس سے حالت خراب ہے۔ نئی بات نہیں جیسا کہ ماہران تاریخ جانتے ہیں۔ پھر یہ بات بھی ثابت نہیں کہ موسیٰ علیہ السلام سے عیسیٰ علیہ السلام ٹھیک چودہ سو برس بعد آئے۔ قیاس آپ کے خلاف ہے کیونکہ حضرت دائود علیہ السلام سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک ۲۸نسلیں ہیں اور حضرت دائود علیہ السلام سے ابراہیم علیہ السلام تک ۱۴، کل ۴۲نسلیں اور بحساب اوسط عمر ۳؍۱صدی فی نسل جیسا عام طور پر انسانی دستور ہے۔ ۱۴۰۰؍سال کی مدت ہوئی حضرت ابراہیم علیہ السلام سے موسیٰ علیہ السلام تک کم سے کم ۴۰۰؍برس کا زمانہ لینا چاہئے۔ کیونکہ اسحاق، یعقوب، یوسف علیہم السلام یہ دو نسلیں ہوئیں اور پھر تیس کی تعداد سے بڑھ کر ہزارہا نبی اسرائیل مصر میں ہوگئے۔ اس حساب سے موسیٰ، عیسیٰ علیہم السلام سے ایک ہزار برس قبل ہوئے۔ ایک ہزار کا قرن مانا جائے تو اکبر کا دعویٰ کہ اب میں (ایک ہزار ہجری میں) خلیفۃ اﷲ ہوں۔ بموجب آیہ استخلاف درست ہوگا یہ حساب عقلی ہے۔ نقلی حساب یہ ہے کہ بموجب تاریخ یہود حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ۱۶۳۵سال قبل بموجب شمسی سال حضرت موسیٰ علیہ السلام پیدا ہوئے جو قمری حساب سے ۱۶۸۴سال ہوتے ہیں۔ آپ اپنے مسیح کا آنا مثیل موسیٰ سے ۱۴۰۰سوبرس بعد بتاتے ہیں (اگرچہ دراصل سترہ سو برس ہوئے) اس ۳۸۴ یا ۲۸۴؍کا فرق کس طرح نکلا۔ د…آپ کی یہ دلیل کہ مجدد ہر صدی کے شروع میں آئے گا۔ سو صدی اگر بعد بعثت سے مراد ہے اور یہ تسلسل ثبوت سے ہے تو اس کی ابتداء ۱۲۸۸ھ کے قریب ہوئی جب کہ تہذیب الاخلاق شائع ہوا۔ چنانچہ اس پر بھی ۱۳۰۱ھ درج ہے علاوہ ازیں مجدد کا درجہ ایک مسیح سے بہت کم ہے۔ عیسیٰ بقول آپ کے موعود ہے اور صرف ایک ہے اور مجدد سینکڑوں آئیں گے۔ دعویٰ خاص اور دلیل عام۔ اور ڈاکٹر ڈوئی وغیرہ کی نسبت بھی آسانی سے یہی پیشینگوئی صادق آسکتی ہے اگر اسلام کی شرط ہو تو صبح ازل بابیوں کا امام زندہ ہے اور سیدبھی ہے اور مدعی مہدویت بھی ہے۔ اس کو کس واسطے مہدی نہ سمجھا جائے؟ اس سے بھی تخصیص نہیں ہوتی۔ کیونکہ قاعدہ ہیئت کے موافق اس شرط کا دورہ بھی ہوا کرتا ہے۔ آخر میں ادب کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ آپ نے مفصلہ ذیل امور جو زبانی فرمائے تھے۔ جب ان پر غور کیا جائے یعنی۔ ۱… یہ کہ مرزا قادیانی ایک حکم بھی رسول خدا کو نہ ترمیم کرسکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں نہ کوئی