موضوعاتی درس قرآن ۔ سورہ فاتحہ |
|
سے جمع فرمایا، کہ قرآن کریم کی آیتوں پر نقطے اور زیر زبر پیش نہیں ڈالے، تاکہ انہی مذکورہ قرأتوں میں سے جس قرأت کے مطابق چاہیں پڑھ سکیں، اس طرح اکثر قرأتیں اس رسم الخط میں سما گئیں، اور جو قرأتیں رسم الخط میں نہ سماسکیں اُن کو محفوظ رکھنے کا طریقہ آپ نے یہ اختیار فرمایا کہ ایک نسخہ آپ نے ایک قرأت کے مطابق لکھا اور دوسرا دوسری قرأت کے مطابق، امت نے ان نسخوں میں جمع شدہ قرأتوں کو یاد رکھنے کا اس قدر اہتمام کیا کہ علم قرأت ایک مستقل علم بن گیا۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ جس وقت حضرت عثمان نے قرآن کریم کے سات نسخے مختلف خطوں میں بھیجے تو ان کے ساتھ ایسے قاریوں کو بھی بھیجا تھا جو اُن کی تلاوت سکھا سکیں، چنانچہ یہ قاری حضرات جب مختلف علاقوں میں پہنچے تو انہوں نے اپنی اپنی قرأتوں کے مطابق لوگوں کو قرآن کی تعلیم دی، اور یہ مختلف قرأتیں لوگوں میں پھیل گئیں، اس موقع پر بعض حضرات نے ان مختلف قرأتوں کو یاد کرنے اور دوسروں کو سکھانے ہی کے لئے اپنی زندگیاں وقف کردیں، اور اس طرح ’’علم قرأت ‘‘ کی بنیاد پڑگئی، اور ہر خطے کے لوگ اس علم میں کمال حاصل کرنے کے لئے ائمہ قرأت سے رجوع کرنے لگے، کسی نے صرف ایک قرأت یاد کی، کسی نے دو، کسی نے تین، کسی نے سات اور کسی نے اس سے بھی زیادہ، اس سلسلے میں ایک اصولی ضابطہ پوری امت میں مسلم تھا، اور ہر جگہ اسی کے مطابق عمل ہوتا تھا، اور وہ یہ کہ صرف وہ ’’قرأت‘‘ قرآن ہونے کی حیثیت سے قبول کی جائے گی جس میں تین شرائط پائی جاتی ہوں۔ (۱)مصاحفِ عثمانی کے رسم الخط میں اس کی گنجائش ہو۔ (۲) عربی زبان کے قواعد کے مطابق ہو۔ (۳)وہ آنحضرت ﷺسےصحیح سند کے ساتھ ثابت ہو، اور ائمہ قرأت میں مشہور ہو۔ جس قرأت میں ان میں سے کوئی ایک شرط بھی مفقود ہواسے قرآن کا جز نہیں سمجھا جاسکتا، اس طرح متواتر قرأتوں کی ایک بڑی تعداد نسلا بعد نسل نقل ہوتی رہی ، اور سہولت کے لئے ایسا بھی ہوا کہ ایک امام نے ایک یا چند قرأتوں کو اختیار کرکے انہی کی تعلیم دینی شروع کردی اور وہ قرأت اُس امام کے نام سے مشہور ہوگئی، پھر علماءنے ان قرأتوں کو جمع کرنے کے لئے کتابیں لکھنی شروع کیں، علامہ ابوبکر ابن مجاہد (متوفی ۳۲۴ھ) نے بھی ایک کتاب لکھی، جس میں صرف سات قاریوں کی قرأتیں جمع کی گئی تھیں، اُن کی یہ تصنیف اس قدر مقبول ہوئی کہ یہ سات قرّاء کی قرأتیں دوسرے قراء کے مقابلہ میں بہت زیادہ مشہور ہوگئیں، بلکہ بعض لوگ یہ سمجھنے لگے کہ صحیح