موضوعاتی درس قرآن ۔ سورہ فاتحہ |
|
سبحان اللہ حضرت سلیمان کی سلطنت سے بہترہے: حضرت سلیمان کا ایک قصہ ہے۔ وہ ایک مرتبہ تختِ شاہی پر کہیں جارہے تھے۔ ایک کاشت کار نے انہیں دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں ایسی بادشاہت عطا فرمائی ہے کہ ہَوا بھی ان کو لے کر چلتی ہے، یہ دیکھ کر اُس شخص نے کہا’’سبحان اللہ‘‘،یہ بات ہوا نے سلیمان تک پہونچا دیا ،سلیمان نے کہا کہ اس بندہ کو میرے پاس لے آؤ۔ اب وہ شخص پریشان ہوگیا کہ پتہ نہیں ایسا میں نے کیا کردیا، نہ میں نے کوئی حرص کی اور نہ کوئی لالچ کی بلکہ میں نے تو اللہ تعالیٰ کی تعریف کی،حضرت سلیمان نے اُس سے پوچھا کہ تم نے کیا کہا تھا۔ اُس نے کہا کہ میں نے یہ کہا تھا۔ فرمایا کہ تم نےجو سبحان اللہ کہاہے اس کا ثواب قیامت کے دن سلیمان کی سلطنت سے بھی بہت بڑا ہے ۔۱؎ بہر حال حضورﷺ نے فرمایا کہ سبحان اللہ نصف المیزان یعنی اعمال کے ترازو کا آدھا پلڑا نیکیوں سے بھر دیتا ہے۔الحمد للہ افضل ذکر اور افضل دعا ہے: ایک حدیث میں آپ نے ارشاد فرمایا: ’’اَلْحَمْدُلِلّٰہِ اَفْضَلُ الدُّعَاءِ‘‘۲؎ ’’الحمد للہ افضل دعا ہے‘‘اوراللہ تعالیٰ کی تعریف کرنا دعا ہی ہے۔ایک دوسری روایت میں الحمد للہ کو افضل ذکر بھی کہا گیا ہے۔۳؎الحمد للہ شکر کی اصل ہے: ایک حدیث میں آپ نے فرمایا : ’’اَلْحَمْدُ رَأسُ الشُّكْرِ مَا شَكَرَاللهَ عَبْدٌ لَا يَحْمَدُهٗ‘‘۴؎ ------------------------------ ۱؎ :الدر المنثور:۶؍۴۳۱۔ ۲؎:مستدرکِ حاکم: كتاب الدعاءو التكبيروالتهليل و التسبيح و الذكر۔ ۳؎: شعب الایمان: ۴ ؍ ۹۰، رقم حدیث:۴۳۷۱۔ ۴؎:روح المعانی:۱؍۴۳۔