موضوعاتی درس قرآن ۔ سورہ فاتحہ |
|
حسرت کا دن: ﴿وَأَنْذِرْهُمْ يَوْمَ الْحَسْرَةِ إِذْ قُضِيَ الْأَمْرُ وَهُمْ فِيْ غَفْلَةٍ وَّهُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ ﴾۱؎ ’’ اور ان کو حسرت وافسوس کے دن سے ڈراؤ جب بات فیصل کر دی جائے گی اور وہ غفلت میں (پڑے ہوئے ہیں) اور ایمان نہیں لاتے ‘‘ دنیا میں کسی انسان سے کتنی ہی قیمتی چیز گم ہوجائے اُس کو اتنی حسرت نہیں ہوتی جتنی حسرت اورافسوس کل ایک انسان کو ہونے والا ہے اگر اُس نے اس دنیا کی زندگی کو غفلت سے گذار دیا۔ جس طرح اُس دن کا نام ’’یوم الدین‘‘ہے اسی طرح اُس کانام’’یوم الحسرۃ‘‘ہے ، لیکن وہاں حسرت کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ﴿يَا وَيْلَتٰى لَيْتَنِيْ لَمْ أَتَّخِذْ فُلَانًا خَلِيْلًا﴾۲؎ ’’ہائے شامت کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا ‘‘ ﴿لَقَدْ أَضَلَّنِيْ عَنِ الذِّكْرِ بَعْدَ إِذْ جَاءَنِيْ وَكَانَ الشَّيْطَانُ لِلْإنْسَانِ خَذُوْلًا ﴾۳؎ ’’ اس نے مجھ کو (کتاب) نصیحت کے میرے پاس آنے کے بعد بہکا دیا اور شیطان انسان کو وقت پر دغا دینے والا ہے ‘‘ ﴿ يَوْمَ تَجِدُ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ مِنْ خَيْرٍ مُّحْضَرًا وَمَا عَمِلَتْ مِنْ سُوءٍ تَوَدُّ لَوْ أَنَّ بَيْنَهَا وَبَيْنَهٗ أَمَدًا بَعِيْدًا ﴾۴؎ ’’ جس دن ہر شخص اپنے اعمال کی نیکی کو موجود پالے گا اور ان کی برائی کو بھی (دیکھ لے گا) تو آرزو کرے گا کہ اے کاش اس میں اور اس برائی میں دور کی مسافت ہوجاتی‘‘ ﴿أَنْ تَقُوْلُوْا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِيْنَ ﴾۵؎ ------------------------------ ۱؎:مریم:۳۹۔ ۲؎:الفرقان:۲۸۔۳؎:الفرقان:۲۹۔۴؎:آلِ عمران:۳۰۔۵؎:الاعراف:۱۷۲۔