معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
حق تعالیٰ نے ہم سے یہی وعدہ فرمایا ہے کہ جب تم توبہ کروگے اسی وقت نیک اور پارسا ہوجاؤگے۔ در قبولِ توبہ داں ایں راز نیز گریہ کن یا نقلِ گریہ اے عزیز قبولیتِ توبہ کے لیے یہ راز بھی جان لو کہ اس وقت رونا یا رونے والوں کی نقل کرنا بہت کام آتاہے۔ چوں گنہ آری شوی از قربِ دور می دہد توبہ ترا قرب و حضور گناہ تم کو خدا سے دور کرتاہے اور توبہ تم کو پھر خدا سے قریب کردیتی ہے۔ وقتِ توبہ چوں تضّرع را بگیر عہدِ ترکِ معصیت را ہم بگیر وقتِ توبہ جب گریہ و زاری کرو تو یہ ارادہ اور عہد بھی کرنا ضروری ہے کہ اب آیندہ یہ گناہ نہ کریں گے۔ بر زباں توبہ و ہم عزمِ گناہ نیست توبہ نزدِ حق اے روسیاہ اگر زبان سے تو توبہ توبہ ہو اور دل میں گناہ کرنے کا ارادہ بھی ہوتو یہ توبہ نہیں ہے توبہ کے لیے عزم علی التقویٰ بھی ضروری ہے کہ اب آیندہ گناہ نہ کریں گے۔ وقتِ توبہ گریہ از خونِ جگر عرش لرزد از ترحم زیں ہنر وقتِ توبہ خونِ جگر کے ساتھ رونے سے عرشِ الٰہی رحمت سے ہلنے لگتاہے۔ قطرۂ اشکِ ندامت در سجود ہمسری خونِ شہادت می نمود