معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
عاشقوں کی سجدہ گاہ جب ان کے آنسوؤں سے تر ہوتی ہے تو آسمان کو باوجود اپنی رفعت وبلندی کے اس حصۂ زمین پر رشک آتاہے۔ سالکے کو سوئے حق عازم بود توبہ از عصیانِ حق لازم بود جو سالک حق تعالیٰ کے راستے کو قطع کرنا چاہتاہو اسے لازم ہے کہ وہ ہر گناہ سے صدقِ دل سے توبہ کرلے۔ چوں گنہ در راہِ حق حاجب بود توبہ پس از ہر گنہ واجب بود جب حق تعالیٰ کے راستے میں گناہ رکاوٹ ہیں تو سالک پر ہر گناہ سے توبہ بھی لازم ہے ورنہ اس راستے میں ترقی کے بجائے تنزل شروع ہوجائے گا ۔ غرق باشی گرچہ در عصیانِ حق ہیں مشو نو مید از غفرانِ حق اگرچہ تو گناہوں میں غرق ہو لیکن خبردار! حق تعالیٰ کی بخشش سے ناامید مت ہونا۔ توبہ را یابی تو مَحَّاءُ الذُّنُوْب پیشِ آں سلطانِ غفار الذنوب اے مخاطب! جب تو اس سلطانِ حقیقی غفّار الذنوب سے معافی طلب کرے گا اور صدقِ دل سے توبہ کرے گا تو اپنی توبہ کو تمام گناہوں کا مٹانے والا پائے گا۔ ہرکہ او توبہ کند ربِّ غفور معاف گرد اند ازاں جملہ قصور جو شخص توبہ کرتاہے تو ربِّ غفور اس کے تمام قصور معاف کردیتاہے۔ ہمچنیں فرمود وعدہ حق ز ما چوں کنی توبہ تو گشتی پارسا