معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
ہندی اور قیچاقی جو ترکوں کی ایک قوم ہے او رومی اور حبشی ان سب کے اجسام کے رنگ مختلف ہوتے ہیں لیکن مرنے کے بعد قبروں میں سب کا رنگ خاکی ہوجاتاہے یعنی سب مٹی ہوجاتے ہیں۔ کہ ز خاکِ بخیہ بر گل می زنند جملہ را ہم بازِ خاکے می کنند حق تعالیٰ شانہٗ مٹی سے مٹی پر بخیہ کرتے ہیں یعنی ان صورتوں کی ابتدا تا انتہا ہرجزمٹی ہی ہے۔جس کا پتا اس وقت چلتاہے جب مِنۡہَا خَلَقۡنٰکُمۡکے بعد وَ فِیۡہَا نُعِیۡدُکُمۡ؎ کا وقت آجاتاہے۔ او ر یہ اجزامثل آنکھ، کان، ناک جو الگ الگ ناموں سے ممتاز ہوتے ہیں قبروں میں پھر خاک ہوجاتے ہیں اور امتیازی علامت بالکلیہ فنا ہوجاتی ہے۔ ایں کباب و ایں شراب و ایں شکر خاکِ رنگین است و نقشیں اے پسر یہ کباب،یہ شراب،یہ شکر جن کا ذائقہ اور رنگ الگ الگ معلوم ہوتاہے لیکن در حقیقت یہ سب خاک ہے البتہ خاک کو مختلف رنگ دے دیے گئے ہیں۔ خاک را رنگ و فن و شنگے دہد طفل خویاں را بداں جنگے دہد خاک کو اس طرح خوش قامتی اور نقش و نگار عطافرماتے ہیں کہ اطفال خصلت انسان ان کے لیے بایکدیگرجنگ کرتے ہیں۔حالاں کہ درحقیقت یہ صورتیں پھر خاک ہوجائیں گی۔ رنگِ تقویٰ رنگِ طاعت رنگِ دیں تا ابد باقی بود بر عابدیں صرف تقویٰ اور طاعت اور دین کا رنگ باقی رہتاہے کیوں کہ اس کا رنگ اگرچہ اعضائے ------------------------------