معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
بلکہ دنیا کے سلاطین توافکارِدنیویہ سے غمگین رہتے ہیں اور غلبۂ فکر سے جب ان کو نیند نہیں آتی تو قصہ گومقررکیے جاتے ہیں تاکہ قصے سن کر نیند آجائے۔ اس کے برعکس اللہ والوں کی سلطانیت عجیب اطمینان اور بے فکری کی ہوتی ہے۔ حضرت سعدی شیرازی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ؎ بسودائے جاناں ز جاں مشتغل بذکرِ حبیب از جہاں مشتغل بیادِ حق از خلق بگریختۂ چناں مست ساقی کہ مے ریختۂ اللہ تعالیٰ کے عاشق بندے محبوبِ حقیقی کے عشق میں اپنی جان سے بھی بے پرواہیں اور ذکرِ محبوب کی لذت نے ان کو دنیاکے تمام مشاغل سے مستغنی کردیاہے،یادِ حق میں خلق سے کنارہ کش ہیں تاکہ تعلقاتِ غیر ضروریہ سے ذکرِ حق میں خلل واقع نہ ہواورحق تعالیٰ کی یاد سے ایسے مست اور بے خود ہیں کہ غیرِ حق سے بالکل التفات باقی نہ رہا،اگرچہ وہ مباح الاصل ہی کیوں نہ ہوں یاکسی درجۂ مرجوحہ میں مستحسن ہی کیوں نہ ہوں لیکن ان امور کی طرف ان عاشقین کوبالکل التفات نہیں رہا،کیوں کہ دست بوسی شاہ کے میسر ہوتے ہوئے پابوسی شاہ کی طرف التفات قربِ اعلیٰ سے قربِ ادنیٰ کی طرف نزول کے مترادف ہے ۔ یادِ حق آمد غذا ایں روح را مرہمآمد ایں دل مجروح را مولانا فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ کی یاد روحِ انسانی کی اصل غذا ہے اور قلبِ مجروح یعنی عشقِ حق سے زخمی دل کے لیے یادِ حق بمنزلۂ مرہم ہے، کیوں کہ عاشق کواپنے محبوب کے ذکر ہی سے سکون ملتاہے۔ بات یہ ہے کہ انسان کوحق تعالیٰ نے اپنی ذاتِ پاک کاخلقۃ ً و فطرۃً عاشق پیدا فرمایاہے یعنی ہرانسان مرتبۂ فطرۃِ انسانیت میں عاشقِ حق ہے۔ حق تعالیٰ نے اس دعویٰ پرایک دلیلِ مثبت قرآنِ پاک میں ارشاد فرمائی ہے۔ فرماتے ہیں: