معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
کاندھلوی خاتمِ مثنوی کاہے۔ مولانا رومی رحمۃ اللہ علیہ نے پیشین گوئی فرمائی تھی کہ میرے بعد ایک نورِ جان پیداہوگا جومیری مثنوی کابقیہ حصہ پوراکرے گا۔ فرماتے ہیں: ہست باقی شرحِ ایں لیکن دروں بستہ شد دیگر نمی آید بروں باقی ایں گفتہ آید در زباں در دلِ آنکس کہ دارد نورِ جاں مولانارومی رحمۃ اللہ علیہ نے ان دونوں اشعار میں حضرت مولاناالٰہی بخش صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق جوپیشین گوئی فرمائی تھی اس کاظہور پانچ سوبرس کے بعد ہوا کیوں کہ مولانا رومی ساتویں صدی کے ہیں اورحضرت مفتی صاحب خاتم مثنوی بارہویں صدی کے ہیں۔ یادِ او سرمایۂ ایماں بود ہر گدا از یادِ او سلطاں بود مولانا رومی فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہٗ کی یاد ہی ایمان کاکل سرمایہ ہے یعنی حاصلِ ایمان ہے اور ان کی یاد میں ایسی لذت ہے کہ ہرگداان کی یاد کی برکت سے بادشاہ بلکہ رشکِ سلاطین ہوجاتاہے ؎ جو ان کی یاد میں بیٹھے سب سے بے غرض ہوکر تو اپنا بوریا بھی پھر ہمیں تختِ سلیماں تھا جس وقت بندہ کسی چٹائی پراپنے اللہ کانامِ پاک لیتاہے تواس وقت اس کی وہ چٹائی یابوریا بادشاہوں کے تخت کے لیے قابلِ رشک ہے ؎ اگر ایک تو نہیں میرا تو کوئی شے نہیں میری جو تو میرا تو سب میرا فلک میرا زمیں میری تمنا ہے کہ اب ایسی جگہ کوئی کہیں ہوتی اکیلے بیٹھے رہتے یاد ان کی دلنشیں ہوتی