معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
گفت می بینی تو گفتا کہ بلے بر سرت تاباں چو بدرِ کاملے بچے نے کہا: تودیکھتی ہے جلد کہہ کہ ہاں تیرے اوپر مثل بدرِ کامل کے وہ فرشتہ ہے۔ می بیاموزد مرا وصفِ رسول زاں علوم می رہاند زیں سفول وہ فرشتہ مجھے وصفِ رسول سکھارہاہے اور کفر وشرک کے ناپاک علوم سے خلاصی و رہائی دلارہاہے۔ پس رسولش گفت اے طفلِ رضیع چیست نامت باز گو و شو مطیع پھر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: اے دودھ پیتے بچے!یہ بتاکہ تیرا نام کیا ہے اور میرے امر کی تواطاعت کر۔ گفت نامم پیشِ حق عبد العزیز عبدِ عزّیٰ پیش ایں یکمشت حیز بچے نے کہا: میرانام حق تعالیٰ کے نزدیک عبدالعزیز ہے مگر ان تھوڑے سے ذلیل مشرکین نے میرا نام عبدعزّیٰ رکھاہے ؎ (حیز لغت میں مخنث،نامرد، ذلیل کوکہتے ہیں) ؎ من ز عزّیٰ پاک و بے زار و بری حق آنکہ دادت او پیغمبری میں اس عزیٰ بت سے پاک اور بے زار اور بری ہوں صدقے میں اس ذاتِ پاک کے جس نے آپ کو پیغمبری بخشی ہے۔ پس حنوط آں دم ز جنت در رسید تا دماغِ طفل و مادر بو کشید