معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
ناپاکی اپنا بستر باندھ کر رخصت ہوجاوے گی۔ میگر یزد ضدہا از ضدہا شب گریزد و چوں بر افروزد ضیاء ہر ضداپنے ضد سے بھاگتی ہے، رات بھاگ جاتی ہے جب دن اپنی روشنی کرتا ہے یعنی نور کے ساتھ تاریکی جمع نہیں ہوسکتی کہ اجتماعِ ضدین محال ہے، اسی طرح اللہ کے نام کی پاکی تمہاری ناپاکی کودوربھگادے گی ؎ چوں در آید نامِ پاک اندر دہاں نے پلیدے ماند و نے آں دہاں جب اللہ کا نام پاک منہ میں آئے گا تو وہاں پلیدی اور گناہ کی تاریکی ٹھہر ہی نہیں سکتی۔ فائدہ : اس واقعہ میں سالکین کے لیے عظیم نصیحت ہے کہ جس حال میں بھی ہو کتنے ہی گناہوں اور برائیوں میں ابتلا ہو مگر اپنی گندگی اور پلیدی کے سبب ذکر میں دیر نہ کرو اور اصلاح کا انتظار نہ کرو بلکہ خود اصلاح بھی ذکرہی کی برکت سے آسان ہوجاوے گی کیوں کہ ذکرہی کے نور سے گناہوں کی تاریکی کااحساس؎ بھی ہوتاہے کہ شے اپنے ضدسے پہچانی جاتی ہے: اَلْاَشْیَآءُ تُعْرَفُ بِاَضْدَادِھَا چناں چہ مشاہدہ اورتجربہ ہے کہ ذاکر سے جب خطاہوتی ہے فورًااسے توبہ کی توفیق ہوتی ہے، کیوں کہ ذکرکے نور میں گناہوں اور برائیوں کی تاریکی کااحساس فورًا ہوجاتا ہے اور ذکرکے عطرکے بعدگناہوں کی بدبوکااحساس قوی ہوجاتاہے۔ جس سے جلد توبہ کرکے دل صاف کرنے کی توفیق ہوتی ہے جیساکہ صاف وشفاف لباس والا معمولی سی گندگی کے دھبے کو برداشت نہیں کرپاتا،جب تک دھونہیں لیتاچین نہیں ملتااورگندے لباس والے کواول تودھبہ نظرنہ آئے گا کہ پہلے ہی سے کافی دھبے ہیں دوسرے یہ کہ معلوم ------------------------------