معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
لیکن استغفار اور توبہ کی توفیق اپنے ہاتھ میں نہیں اور توبہ کا ذوق اور داعیہ ہر سرمست کی غذا نہیں ہے۔ فائدہ : حسبِ ذیل نصائح اس حکایت سے ملتے ہیں: اللہ ورسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں میں شبہ کرنایابے ادبی کرناکبھی دنیاوی عذاب کا باعث بھی ہوتاہے۔بہت ڈرنے کا مقام ہے۔ توبہ کرلینے کے سہارے پر گناہ کا ارتکاب کبھی نہ کرنا چاہیے کہ توبہ کی توفیق اپنے ہاتھ میں نہیں، ممکن ہے کہ اس جرأت اور گستاخی کے وبال سے توفیقِ توبہ سلب ہوجاوے اور ہمیشہ کے لیے مطرود اور مردود ہوجاوے۔ توبہ کی مثال ایسی ہے جیسے کوئی کہے یہ مرہم جل جانے کے زخم کو نہایت مفید ہے توکیا اس مرہم کے سہارے پر کوئی اپنے ہاتھ کو آگ میں ڈالتاہے۔ یہ مرہم تو اتفاقی حوادث کے لیے ہوتاہے نہ کہ اپنے ہاتھوں کو خودہی جلاکر اس مرہم کے فوائد کو آزمایا جاتاہے۔ اسی طرح گناہوں کی تاریکی اور آگ جو دل کو نقصان پہنچاتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی دوری اورناراضگی کا وبال آجاتاہے توبہ ان نقصانات کی تلافی کرتی ہے۔ توبہ گناہوں کی آگ کے زخم کا مرہم ہے لیکن اس کا مطلب یہ لیناکہ قصدًا آگ سے اپنے کو جلادیاجاوے اور اس مرہم کو آزمایاجاوے، انتہائی بے وقوفی ہوگی۔ گناہوں سے بچنے کااہتمام اس قدر ہوناچاہیے کہ یہ تہیہ کرلے کہ اگر گناہ کے تقاضے پر عمل نہ کرنے کی تکلیف سے جان بھی نکل جائے گی پھر بھی گناہ نہ کروں گا اور اس عزم کی بقاء کے لیے اللہ والوں کی صحبت اور اچھے ماحول اور التزامِ ذکر کا اہتمام بھی کیاجاوے۔ اس کے باوجود اگر بر بنائے بشریت کبھی خطا ہوجاوے تو بے شک گریہ وزاری اور توبہ کا مرہم بڑا اکسیر ہے۔ مولانا نے ایک مقام پر فرمایاہے: مرکبِ تو بہ عجائب مرکب است تا فلک تازد بیک لحظہ ز پست