احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
جولائی دسمبر ۱۹۵۵ء اور جنوری، جون ۱۹۵۶ء کے درآمدی عرصہ میں جو ایمپورٹ لائسنس ملے تھے۔ آپ نے ۲۰۰ اور ۱۹۰۰ روپے کے اپنے ایک تجارتی ادارہ یعنی وکیل التجارت تحریک جدید جس کے انچارج قریشی عبدالرشید تھے۔ وکیل المال تحریک جدید کو فروخت کئے تھے یا نہیں؟ اگر کئے تھے تو کیوں؟ کیا یہ جرم ہے یا نہیں۔ اگر آپ کا یہ جواب ہو کہ آپ نے فروخت نہیں کئے تھے بلکہ بطور اپنے مختار ونمائندہ کے ان کے ذریعہ مال منگوایا تھا تو پھر ان دونوں پرمٹوں کے مال پر مجموعی طور پر جو ۷۰۰۰ روپے کے قریب نقصان ہوا تھا وہ آپ نے خود اپنی جیب خاص سے کیوں برداشت نہ کیا؟ اس کا بار جماعتی چندہ اور قومی امانت پر کیوں ڈالا گیا۔ کیا یہ مذہبی اور روحانی خلیفہ کے لئے جائز ہے۔ جب کہ آپ کا دعویٰ توحضرت عمرؓ سے بڑھ کر فضل عمر ہونے کا ہے۔ حالانکہ اس عمرؓ نے تو اپنے لڑکے کو بیت المال کے چراغ سے سر پر تیل لگانے پر بھی سزا دی تھی۔ خرید وفروخت اور نقصان کے لئے یونیورسٹی ٹریڈنگ اینڈ مینوفیکچرنگ کمپنی ربوہ کی کتب حسابات اور نفع ونقصان کا گوشوارہ بابت ۵۶۔ ۱۹۵۵ء اور ۵۷۔۱۹۵۶ء ملاحظہ ہو۔ ۳… دی سندھ جننگ اینڈ پریسنگ فیکٹری کنری سندھ میں پریسنگ سیکشن جو ۱۹۴۴ء میں انکم ٹیکس سے بچنے کے لئے علیحدہ کیا گیا تھا اور ۱۹۵۶ء میں آپ کی خاص ملکیت اور ذاتی جائیداد کے طور پر پروموٹرز کارپوریشن لمیٹڈ ربوہ کے پاس فروخت یا منتقل ہوا ہے کے اداشدہ سرمایہ میں ۸۸۰۰۰ روپیہ قرض بیت المال سے حاصل کئے ہوئے قرضہ ۱۲۸۰۹۰ میں سے منتقل ہوا تھا یا نہیں؟ کیا یہ ۸۸۰۰۰ روپے کا قرض آپ کی جیب خاص سے واپسی ادا ہوا ہے؟ یا محض کاغذی اور ہیراپھیریوں کے ذریعہ جو آپ کے حکم اور ایماء سے ہوتی رہی ہیں۔ اداشدہ ظاہر کر کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کنری فیکٹری سے حکماً یہ کلیئرنس سرٹیفکیٹ لیاگیا تھا کہ اب صدرانجمن اور تحریک جدید کا پریسنگ سیکشن میں کوئی دخل اور واسطہ نہیں۔ آئندہ یہ خالصتاً حضور کی ذاتی ملکیت ہوگا۔ کیا یہ قوم کے روپیہ کا ناجائز اور مجرمانہ مصرف نہیں؟ اور کیا اس قومی جائیداد کو اپنانے کی تفصیلات کبھی آپ نے جماعت کی نمائندہ مجلس مشاورت میں پیش کی ہیں یا پیش کرنے کی کبھی اجازت دی ہے اور کیا یہ حقیقت نہیں کہ ۱۹۴۴ء میں جننگ اور پریس سیکشن کی تقسیم محکمہ انکم ٹیکس کی خاطر کی گئی تھی تاکہ جننگ سیکشن کو صدر انجمن اور تحریک جدید کی ملکیت ظاہر کر کے بوجہ خیراتی ادارہ ہونے کے ٹیکس میں بچایا جاسکے اور پریسنگ سیکشن کو فرضی شرکت نامہ سے بھاری ٹیکس سے محفوظ کیا جاسکے؟ پنجابی کی مشہور ضرب المثل: