احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
۱۴… اگر کوئی حسب دار سال سے زائد عرصہ کے گذشتہ حساب کی نقل طلب کرے تو اس کی اجرت چار آنہ فی سال کے حسب سے دفتر صیغۂ امانت وصول کرے گا۔ زیادہ پرانے حساب کے لئے زیادہ اجرت لی جائے گی۔ ۱۵… باستثناء یوم جمعہ یا کسی تعطیل کے دفتر کے اوقات میں ہر روز امانت کا روپیہ داخل ہوسکے گا اور واپس مل سکے گا۔ ۱۶… اگر کسی حساب دار کو سہواً اس کے بقائے سے زیادہ روپیہ دفتر سے اداہو جائے تو حساب دار اس کی واپسی کا ذمہ دار ہوگا۔ ۱۷… حساب دار کو چاہئے کہ رسید یا رقعہ پر اگر کوئی اندراج قلمزن کرے یا کوئی تحریر مشکوک ہو جائے تو اس پر اپنے تصدیقی دستخط کرے۔ کیونکہ کوئی مشکوک رسید یا رقعہ دفتر امانت سے ادا نہ کیا جائے گا۔ ۱۸… اگر باوجود رعایت رکھنے ان تمام اسباب حفاظت کے جو حالات کے ماتحت ممکن ہوں پھر بھی کسی وجہ سے خدانخواستہ نقصان ہو جائے تو حسب احکام شریعت اسلامی اس نقصان کا حصہ امانت دار کو بھی اٹھانا پڑے گا۔ افسر امانت صدر انجمن احمدیہ پاکستان ربوہ بینکاری کا سنگین معاملہ اس بینک میں سرکاری ملازمین کے کھاتے کھلے ہیں۔ محکمہ انکم ٹیکس والوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ بنظر عمیق اور سنجیدگی کے ساتھ اس امرکی چھان بین کرے۔ انہیں بڑی بڑی مفید معلومات حاصل ہوں گی۔ وہ تمام لوگ جو محض ٹیکس سے بچنے کے لئے منظور شدہ بینکوں کی بجائے صیغہ امانت میں روپیہ جمع کرواتے ہیں منظر عام پر آجائیں گے۔ بینکاری کا معاملہ بڑا سنگین معاملہ ہے۔ اگر کوئی بینک بعض غیرمتوقع حالات کی بناء پر دیوالیہ ہو جائے تو بہت سے لوگ تباہ وبرباد ہو جاتے ہیں۔ پیپل بینک دیوالیہ ہوا تھا تو ملک میں ایک شور برپا ہوگیا تھا۔ بینک تو بند ہوگیا۔ لیکن ملک کی فضا میں بیواؤں، یتیموں اور بے بسوں کے رونے کی چیخ وپکار کی گونج اٹھی۔ ہزاروں لکھ پتی غربت وبے بسی کے اژدھا کا لقمہ بن گئے۔ جن لوگوں کا ربوہ کے جعلی بینک میں روپیہ پڑا ہوا ہے گورنمنٹ نے اس کی حفاظت کا کیا سامان کیا ہے۔ گورنمنٹ کا اوّلین فرض ہوتا ہے کہ وہ ملک کے شہریوں کی اموال کی حفاظت کا بندوبست کرے۔