احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
کی ترمیم کررہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ قرآن مجید کی ترمیم کرنے والا اپنے کو خدا اور رسول سے بڑھ کر سمجھتا ہے کیونکہ متکلم سے مصلح اور مرمم کا درجہ بڑا ہوتا ہے۔ پھر یہی نہیں بلکہ ترمیم شدہ اور متغیر شدہ جملوں کو الہام اور وحی خاص بتایا جاتا ہے گویا خدائے تعالیٰ نے پہلے کچھ الہام کیا اور اب کچھ۔ آنحضرتa نے تو اہل کتاب کی اصلاح فرمائی۔ مرزا قادیانی خود مقدس اسلام کی اصلاح کررہے ہیں۔ گردن میں پلاسٹر لگا کر اس شخص کو پاگل خانے کیوں نہیں بھیجا جاتا۔ ہماری رائے میں ابھی تک تو اس کا دماغ اصلاح پذیر ہے۔ چند روز میں جب مادہ پک گیا اور موجودہ مالیخولیا پورا قطرب ہوگیا تو اصلاح قطعاً محال ہوجائے گی۔ ایسا بہت جلد ہونے والا ہے۔ انشاء اﷲ! براہین کے ص۵۵۸،خزائن ج۱ ص۶۶۶ میں آپ پر یہ الہام ہوا ’’الم نشرح لک صدرک الم نجعل لک سہولۃ فی کل امربیت الفکروبیت الذکر ومن دخلہ کان آمنا‘‘اپنی مزخرفات ٹھونس کر کلام الٰہی کی کیسی توہین کی ہے؟ ذرا خبط تو ملاحظہ فرمائیے کہ بیت الفکر اور بیت الذکر آپ کے دو گھر ہیں۔ اور آپ خود لکھتے ہیں کہ بیت الفکر سے مراد وہ چوبارہ ہے جس میں یہ عاجز کتاب کی تالیف میں مشغول رہا ہے اور رہتا ہے اور بیت الذکر سے مراد وہ مسجد ہے جو اس چوبارہ کے پہلو میں بتائی گئی۔ تعجب ہے کہ مرزا کا خدا واحد اور تثنیہ میں بھی تمیز نہیں کرسکتا ورنہ ’’ومن دخلہما کان آمنا‘‘ کہتا۔ کیونکہ بیت الفکر اور بیت الذکر دو مکان جدا جدا ہیں۔ آپ کہتے ہیں: ’’من دخلہ کان آمنا‘‘صرف مسجد کی صفت ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ صفت اور موصوف کے گھڑنے کا بھی لے پالک کے آسمانی باپ کو شعور نہیں ورنہ عبارت یوں ہوتی۔ ’’وبیت الذکر الذی من دخلہ کان آمنا‘‘ کیا وجہ ہے کہ آپ کا بیت الذکر تو دارالامن ہو اور بیت الفکر دارالامن نہ ہو بلکہ دارالحزن ودارالکفر ہو۔ جناب باری نے تو تمام مکہ کو دارالامن قرار دیا ہے۔ مگر وہ تو تیرہ سو برس کے بعد دارالامن نہ رہے اور لے پالک کا جھونپڑا دارالامن بن جائے پھر فی کل امر بیت الفکر بیت الذکر کتنا فصیح جملہ ہے؟ ارے بودم!تتابع اضافات مخل فصاحت ہے۔ ’’الم نشرح لک صدرک‘‘ کے ساتھ اس خانگی عبارت کو ملانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی خبیث سندس واستبرق کے بہشتی حلے میں ناپاک ٹاٹ کا پیوند لگا دے۔ پھر بدمعاشی اور بے ایمانی اور بدنیتی دیکھئے کہ جناب باری نے ’’الم نشرح لک