احتساب قادیانیت جلد نمبر 58 |
|
عیسوی مذہب تو کس شمار میں رہا جس کے استیصال کے لئے وہ مسیح بن کر مبعوث ہوئے ہیں۔ مریدوں کو شاید مسلمانوں کے ساتھ نماز پڑھنے کی اس لئے ممانعت ہے کہ مسلمان تو خدا کی نماز پڑھتے ہیں اور مرزا قادیانی ان سے اپنی نماز پڑھوانا چاہتے ہیں۔ چند روز میں پرانا قبلہ بھی بدل دیا جائے گا۔ آسمانی باپ الہام کرنے والا ہے کہ اب تمہارا قبلہ قادیان ہے۔ حج کرنے سے مرزائیوں کو منع کرہی دیا ہے۔ فقراء اور مساکین کو جو زکوٰۃ لینے کے مستحق ہیں۔ محروم کرہی دیا ہے اور مریدوں کے نام سکھا شاہی آرڈر بھیج ہی دیا ہے کہ نقیر سے لے کر قطمیر تک زندہ پیر کی کھیر کے لئے بھیج دو۔ عیسیٰ مسیح کو مار ہی دیا ہے کہ وہ آسمانی باپ کا بیٹا نہ تھا بلکہ میں ہوں۔ مقدس مذہب اسلام غیر مذاہب کے ساتھ تعصب برتنے کو روکتا ہے مگر مرزا جیسے خود غرض دنیا پرستوں نے اسلام کو بدنام کردیا ہے۔ یہ اسلام کے چہرے پر بدنما مسّے بلکہ بے ہنگم رسولیاں ہیں۔ غیبی سرجری سے آپریشن ہوکر مسّے اوررسولیاں نکالی جائیں تو اسلام کا نورانی چہرہ صاف ہوکر چمک اٹھے۔ پانیر نے جو فرانس کی نظیر پیش کی ہے کہ وہاں کے لوگ مذہب سے بے پرواہ ہیں تو اس کا یہ مطلب ہے کہ وہاں مذہبی امور میں مداخلت نہیں کی جاتی۔ عیسیٰ بدین خود، موسیٰ بدین خود، یہ مطلب نہیں کہ تمام ملک فرانس دہریہ ہے۔ فرانس پر کیا حصر ہے۔ مذہب کے لحاظ سے کسی ملک کی حالت یکساں نہیں۔ کیا ہندوستان میں دھریے موجود نہیں۔ اگر تحقیق کی جائے تو لاکھوں دہریے نکلیں گے اور جو لوگ عقیدہ اصول مذاہب کو مانتے ہیں۔ وہ بھی عملاً اپنے فرائض سے بے پرواہ ہیں۔ لاکھوں مسلمان نماز روزہ وحج زکوٰۃ سے بے پرواہ ہیں مگر ہیں مسلمان۔ وہ دھریہ نہیں۔ وہ اپنے کو ترک عمل کے لحاظ سے خاطی اور گنہگار سمجھتے ہیں اورجب خدا اور رسول کا نام آئے گا سر جھکائیں گے۔ اس کو مذہبی بے پروائی نہیں کہہ سکتے بلکہ عملی بے پروائی کہیں گے۔ وہ پورے راسخ الاعتقاد ہیں بھلا ایک راسخ الاعتقاد کیونکر مذہب سے بے پرواہ یعنی دھریہ ہوسکتا ہے۔ ہنود میں بھی (ناستک یا دہریے) ہیں مگر تمام ہنود ناستک نہیں۔ فرانس کے لوگ اگر کثرت سے عیاش اور فسق وفجور میں غرق ہیں تو اس کے یہ معنی نہیں کہ وہ مذہب سے بے پرواہ ہیں۔ فرانس والے مذہبی عقائد کے پابند اور اپنے پوپ (اٹلی کے سقف اعظم) کے تابع ہیں۔ چنانچہ ناظرین نے تاربرقیوں میں دیکھا ہوگا کہ جب پچھلے دنوں اٹلی کے پوپ نے گورنمنٹ فرانس کو ڈانٹا تو پریسیڈنٹ فرانس کے ہوش گندے ہوگئے اور خود پوپ کی خدمت میں حاضر ہونے کا تہیہ کیا۔ اگر مذہب کی جانب سے بے پروائی ہوتی تو پریسیڈنٹ فرانس پوپ کے حکم کی کچھ پرواہ