معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
خوش ہیں؟ ارشاد فرمایا کہ اللہ کا شکر ہے کہ انھوں نے نعمتِ عافیت سے مشرّف فرمایالیکن زمانۂ بیماری و بلا میں صبح و شام غیب سے اللہ میاں کی جوآواز آتی تھی کہ ایوب! کیسا مزاج ہے؟اس آواز میں وہ لطف ملتاتھا کہ ہماری لاکھوں جانیں اس پر قربان ہوں۔ وہ مزاج پرسی تمام تکلیفوں کو بھلادیتی تھی۔ دل اس آواز کو ترستاہے جو اب آ نی بند ہوگئی ؎ پھر ذرا مطرب اسی انداز سے جی اٹھے مردے تری آواز سے (مجذوبؔؒ ) رنج وتکلیف میں شکوہ واعتراض ہرگز نہ کرنا چاہیے کہ یہ سخت گستاخی ہے ؎ چوں کہ قسّام اوست کفر آمد گلہ صبر باید صبر مفتاحُ الصّلہ ( رومیؔؒ ) چوں کہ رنج وراحت کی تقسیم حق تعالیٰ شانہٗ کی طرف سے ہے اس لیے شکوہ واعتراض گستاخی وکفر ہے۔ غلام اور مملوک کی شان یہی ہے کہ مالک کی مرضیات پر راضی برضا رہے کہ مالک اپنے ملک کا مختار ہے جس طرح چاہے تصرّف فرمائے۔ اب اس مضمون کے مناسب اپنے چند اشعار تحریر کرکے مضمون کو ختم کرتاہوں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اپنا سچا غلام بنالیں اور اپنی مرضیات پر عمل کی توفیق عطا فرمائیں۔ (آمین) نظم کا عنوان ہے : ’’احتراز از شکوۂ یاروتعلیمِ رضا وتسلیم‘‘