معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
§س کتاب ک |
|
آنکہ او از آسماں باراں دہد ہم تو اند کو ز رحمت ناں دہد جو ذاتِ پاک کہ آسمان سے بارش برساتی ہے وہ قادر ہے کہ اپنی رحمت سے تجھے روٹی بھی عطافرمادے۔ رزق از وے جومجو از زید و بکر مستی از وے جومجو از بنگ و خمر رزق کو رزّاقِ حقیقی سے طلب کرو، محض زیدو بکر پر نظر کومحصور ومحدود مت رکھو یعنی رزق کے دروازوں سے جو ذات روزی دینے والی ہے اس سے رابطہ قائم کرو اور استغفار کرکے اس کو راضی کروکہ یہ کمی کسی گناہ کے سبب نہ ہو اورکیفیاتِ مستی کوحق تعالیٰ سے طلب کروکہ ان ہی کی عطافرمودہ کیفیات دائمی و سرمدی اورباعثِ فلاح ہوسکتی ہیں، بھنگ اورشراب کانشہ توعارضی، باعثِ دردسری ورسوائی دو جہاں ہے۔ برعکس حق تعالیٰ شانہٗ کی محبت کالطف اور اس کانشہ حضرت عارف رومی رحمۃ اللہ علیہ کی غزلیات میں ملاحظہ فرمائیے۔ فرماتے ہیں ؎ ازیں مے جرعۂ پاکاں چشیدند جنیدؒ و شبلیؒ و عطار شد مست محبتِ الٰہیہ کی مے (شرابِ معرفت) پاک بندے پیتے ہیں چناں چہ حضرت جنید بغدادیؔ رحمۃ اللہ علیہ اور حضرت شبلیؔ رحمۃ اللہ علیہ اوربابافرید الدین عطارؔرحمۃ اللہ علیہ وامثالہم اسی مئے معرفت سے مست ہوئے تھے۔ نہ تنہا اندریں مے خانہ مستم ازیں مے ہمچو من بسیار شدمست میں تنہا مے خانۂ محبت ومعرفتِ الٰہیہ کا مست نہیں ہوں بلکہ مثل میرے اوربے شمار بندگانِ خدا اس نعمتِ رشکِ ہفتِ اقلیم سے باریاب ہوئے۔