معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
ایک زمانہ مجاہدہ و صحبتِ پیرِ کامل کے بعد عارف کی روح اس جسدِ خاکی کے ہنگاموں (خواہشاتِ نفسانیہ) سے آزاد ہوکر حق تعالیٰ کی طرف اڑتی رہتی ہے یعنی حضورِ تام واستحضارِ تام کے فیوض و انوار میں عارف کی روح دل کے پیر سے ( نہ کہ جسم کے پیر سے) مسافتِ سیر الی الحق سے مسافتِ سیر فی الحق قطع کرتی ہے۔ پس ہر لحظہ روحِ عارف کو صفاتِ الٰہیہ کی تفصیلی سیر عطائے حق سے نصیب ہوتی ہے۔ کما قال حضرت رومی رحمۃ اللہ علیہ فی مقامٍ آخر ؎ سیرِِ زاہد ہر مہے یک روزہ راہ سیرِِ عارف ہر دمے تا تختِ شاہ زاہد ایک ماہ میں ایک دن کی مسافت طے کرتاہے اور روحِ عارف باللہ ہر سانس میں باعتبارِ سیر با پرِّدل بے پائے تن تختِ محبوبِ حقیقی تک اڑتی رہتی ہے۔ (من فیوضِ مرشدی) مردِ خفتہ روحِ او چوں آفتاب در فلک تاباں و در تن جامہ خواب انسان سویا رہتاہے اور اس کی روح مثلِ آفتاب کے فلک پر تاباں رہتی ہے۔ چناں چہ بحالتِ خواب یہ مسیرۃِ روحِ عارف اگر مشرف بالولایت ہے تو القاء و الہام و رویائے صالحہ سے فائز ہوجاتی ہے اور جسم کے اندر یہی روح باعتبارِ تصرف فی الجسد کے جامۂخواب میں ہوتی ہے یعنی خفتہ انسان بظاہر بالکل بے حس و حرکت ہوتا ہے۔ اتصالے بے تکیف بے قیاس ہست رب الناس را با جانِ ناس ارواحِ انسانیہ کا حق تعالیٰ سے اتصال بے تکیف اور بے قیاس ہے یعنی اس اتصال کا عقولِ انسانی ادراک نہیں کرسکتی ہیں۔ کیوں کہ مخلوق کی صفاتِ محدودہ کے لیے خالق کی صفاتِ غیر محدودہ کا احاطہ محال ہے۔ ظلِّ او اندر زمیں چوں کوہِ قاف روحِ او سیمرغ بس عالی طواف