معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
گر بہر زخمے تو پُر کینہ شوی پس چرا بے صیقل آئینہ شوی اگر اسی طرح ہرزخم سے تو پُرکینہ ہوتارہے گا تو شیخ کی سختیوں کے بغیرکیسے آئینہ ہوگا ؎ آئینہ بنتاہے رگڑے لاکھ جب کھاتا ہے دل کچھ نہ پوچھو دل بہت مشکل سے بن پاتاہے دل نافِ ما بر مہرِ خود ببریدہ اند عشقِ خود در جانِ ما کاریدہ اند ہماری ناف کو اپنی محبت کی شرط پر کاٹاہے اور ہماری جان میں اپنے عشق کا بیج بودیاہے ؎ دل ازل سے تھا کوئی آج کا شیدائی ہے تھی جو اک چوٹ پرانی وہ ابھرآئی ہے (مجذوبؔؒ) اے عدوئے شرم و اندیشہ بیا کہ دریدم پردۂ شرم و حیا اے عشق! تو دشمن ِ شرم و اندیشہ ہے تواب میرے دل میں آجاکیوں کہ میں نے پردۂ شرم و حیا کو پھاڑدیاہے ؎ ہمارا کام ان کی یاد اور ان کی اطاعت ہے نہ بدنامی کا خطرہ اب نہ پروائے ملامت ہے (نوٹ) یہاں شرم و حیا سے مراد حمیت الجاہلیہ ہے یعنی وہ شرم وعارجواللہ ورسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت میں حائل اور مانع ہواورجوشرم و حیا گناہوں سے حفاظت کرے وہ تو ایمان کا شعبہ ہے اور مطلوب و محمود ہے۔ حق تعالیٰ نے لَا یَخَافُوۡنَ لَوۡمَۃَ لَآئِمٍ ؎ ------------------------------