معارف مثنوی اردو شرح مثنوی مولانا روم |
س کتاب ک |
|
کی پیٹھ پر رسید کرنا شروع کیا۔ گفت آخر از خدا شرمے بدار مے کشی ایں بیگنہ را زار زار اس نے کہا: اے ظالم! مجھ بے گناہ کی اس بری طرح کیوں پٹائی کررہاہے ،خدا سے شرم کر ۔ گفت کز چو بے خدا ایں بندہ اش مے ز ند بر پشت دیگر بندہ خوش باغ کے مالک نے کہا: یہ ڈنڈا بھی خدا کا بندہ ہے اور میں بھی خدا کا ہوں ،جو دوسرے بندے کی پٹائی اچھی طرح کررہاہے۔ مجھے کچھ اختیار نہیں، میں بھی مجبور ہوں، میرا ڈنڈابھی مجبور ہے، یہ سب خدا کررہاہے۔ گفت توبہ کردم از جبر اے عیار اختیار ست اختیار ست اختیار (عیار معنیٰ ترازوئے زرسنج(غیاث اللغات) اس نے کہا: توبہ کرتاہوں اس برے عقیدۂ جبر سے، بے شک اختیار ہے، اختیار ہے، اختیارہے۔ فائدہ : حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے ایک شخص نے سوال کیا کہ بندہ مجبورِ محض ہے یا مختار ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک پاؤں اٹھا، اس نے اٹھالیاپھر ارشاد فرمایا: اچھا دوسرا پاؤں بھی اٹھا۔ اس نے کہا: دونوں کیسے اٹھاسکتاہوں۔ آپ نے فرمایا: بس یہی جواب ہے تیرے سوال کا کہ بندہ آدھا مختار ہے،آدھامجبور ہے، نہ بالکلیہ مختار نہ بالکلیہمجبور۔ اللہ تعالیٰ سے توفیقِ اعمالِ صالحہ اور فہمِ سلیم مانگتارہے،بعض گناہوں کی شامت سے عقل پر عذاب آجاتاہے ، اس امت سے وہ عذاب جس سے ابدان مسخ ہوجاتے تھے، اٹھالیاگیاہے مگر فہم وعقل مسخ ہونے کا عذاب نازل ہوجاتاہے۔ اندریں امت نہ بُد مسخِ بدن لیک مسخِ دل بود اے بو الفطن